خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 341

خطبات محمود جلد (5) ۳۴۱ کے کنکر پھینکنے کی نفی کی گئی ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینکے اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔اب یا تو یہ کرنا ہوگا کہ ان حدیثوں کو بھی غلط اور بناوٹی قرار دیا جائے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کنکر پھینکنے کا ذکر ہے یا یہ مانا پڑے گا کہ قرآن کریم میں یہ استعارہ ہے۔حدیثوں کو تو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی وہ غلط ہیں اس لئے یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم میں استعارہ کے رنگ میں یہ بیان کیا گیا ہے۔پس جبکہ قران کریم میں استعارہ ہے اور اس کو استعارہ سمجھ کر بھی پھر قبول کیا جاتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام کیوں قبول نہیں کیا جاسکتا۔اگر استعارہ کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کا الہام نا قابل قبول ہے تو اس کو چھوڑ نے سے پہلے قرآن کریم کو چھوڑنا چاہیئے۔اور اگر کہا جائے کہ قرآن کریم میں متشابہات کے مقابلہ میں محکمات بھی ہیں ان سے فیصلہ ہو سکتا ہے۔اگر ایک جگہ یہ آیا ہے کہ حضرت مسیح مردے زندہ کرتا تھا تو دوسری جگہ یہ بھی تو آ گیا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی زندہ کرنے اور مارنے والا نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوگیا کہ مسیح کے مُردہ زندہ کرنے کا کوئی اور مطلب ہے اور وہ یہ کہ رُوحانی مُردے زندہ کرتا تھا۔تو اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اگر مسیح موعود کا یہ الہام ہے کہ انت منی بمنزلة ولدی تو آپ ہی کے الہامات میں یہ بھی ہے کہ خدا کا کوئی بیٹا نہیں۔پس اگر قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کر دیتی ہے تو پھر کیوں ہم حضرت مسیح موعود کے ایک الہام کی تشریح دوسرے الہام سے نہ کریں۔اگر حضرت مسیح موعود کے الہامات متشابہات کے رنگ میں ہی ہوتے اور محکمات نہ ہوتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان میں شرک پایا جاتا ہے لیکن آپ کے الہامات تو محکمات بھی ہیں اور اگر ایک میں انت معی بمنزلة ولدی آیا ہے تو دوسرے میں یہ بھی آیا ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔اب قرآن کریم کی آیات اور حضرت مسیح موعود کے الہامات کی ایک ہی حالت ہے پھر یہ کہاں کی دینداری ہے کہ انت منی بمنزلة ولدی کے الہام کو لیکر حضرت مسیح موعود کے تمام الہامات کوضعیف حدیث سے بھی نیچے گرا دیا جائے۔جو کوئی اس طرح کرتا ہے اسے قرآن کریم بھی چھوڑنا پڑے گا کیونکہ ایک طرف تو قر آن کہتا ہے کہ حضرت مسیح مردے زندہ کیا کرتا تھا اور ادھر کہتا ہے کہ صرف خدا ہی زندہ کرتا ہے۔پس جو حضرت مسیح موعود کے الہامات کو چھوڑے گا اسے قرآن کریم چھوڑنا پڑے گا۔مگر میں کہتا ہوں کیا حدیثوں میں متشابہ نہیں ہیں۔ایک ہزار متشابہ احادیث نکال دینے کا تو میں ذمہ دار ہوں۔وہی حدیث جس میں نبی اللہ کا لفظ آیا ہے اس کے متعلق غیر مبائعین کہتے ہیں کہ اس میں استعارہ کے طور پر نبی اللہ کہا گیا ہے۔اسی سے ثابت ہو گیا کہ حدیث میں بھی استعارہ ہے پھر اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیئے۔اب اُس شخص کو جو حضرت مسیح موعود کے الہامات کو ضعیف حدیث ا سیرت ابن ہشام جز و ۲ ص ۶۲۸