خطبات محمود (جلد 5) — Page 337
خطبات محمود جلد (5) ۳۳۷ دروازہ کھل جائے کیونکہ اس طرح الفاظ میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔لیکن استعارہ اور تشبیہہ کا دروازہ کھولنے میں ایک دقت بھی تھی اور وہ یہ کہ بعض اوقات انسان اس کی وجہ سے اصل راستہ کو چھوڑ کر کہیں کا کہیں نکل جا سکتا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک علاج مقرر کر دیا اور وہ یہ کہ جہاں استعارات کا باب رکھا وہاں محکمات کی بھی ایک شاخ رکھ دی۔کیونکہ جہاں استعارہ ہوگا وہاں انسان وسیع معنی کر سکے گا اور ممکن ہے کوئی انسان معانی کو اس قدر وسعت دے یا ایسے معنی بھی کرے جو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہوں۔لیکن اسے یہ کس طرح پتہ لگے کہ فلاں معنی خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہیں اور فلاں منشاء کے ماتحت۔اس کے لئے کوئی کسوٹی ہونی چاہیئے اور وہ کسوٹی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے اصول دین کے لئے ایسے الفاظ رکھے ہیں جن میں کوئی استعارہ اور تشبیبہ نہیں بلکہ وہ عین مطابق ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ نے بطور حکم کے رکھ دیا ہے وہ اس بات کا فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جو آیات ذو المعانی ہیں ان کے فلاں معنی خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہیں اور فلاں معنی بالکل مطابق۔کیونکہ جو معنی ان کے خلاف ہوں گے وہ ضرور غلط اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہوں گے لیکن جو ان کے خلاف نہیں ہوں گے وہ غلط نہیں ہو سکتے خواہ ایک ہی آیت کے کتنے معنی نکلتے آئیں۔یہی وجہ ہے کہ فقیہوں نے ایک ہی آیت کے کئی کئی معنی کئے ہیں اور رسول کریم نے بھی فرمایا ہے کہ ہر ایک آیت کے سات بطن ہیں اور ایک صحابی کہتے ہیں کہ جیتک ایک آیت کے پیچیش " معانی کسی کو معلوم نہ ہوں اُس وقت تک وہ فقیہ نہیں کہلا سکتا۔اس صحابی کو جھو ٹا تو کہہ نہیں سکتے اور نہ ہی ہم آنحضرت کی اس بات کو کہ ہر ایک آیت کے سات بطن ہوتے ہیں چھوڑ سکتے ہیں۔اس لئے اب یہی معنی کریں گے کہ بطن سے مراد ایک بڑا جز و اور حصہ ہے اس سے آگے ہر ایک بطن کے کم از کم پچھتیں پچھتیں معانی ہوتے ہیں۔پس جب کسی کو ایک بطن کے پچھتیں معانی آتے ہوں تب وہ فقیہہ ہوسکتا ہے۔اس سے دیکھو کہ معانی میں کس قدر وسعت ہو گئی ہے۔پھر رسول کریم کی صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک ہی آیت کے ایک جگہ ایک اور دوسری جگہ دوسرے معنی کئے ہیں۔صحابہ کرام کی نسبت بھی ایسا ہی ثابت ہے۔اب یہ تو کہا نہیں جا سکتا کہ دوسرے معنے غلط ہیں بلکہ یہی کہا جائے گا کہ ایک آیت کے کئی معنے ہوتے ہیں کیونکہ ایک ہی آیت میں خدا تعالیٰ نے بہت سے معانی اور مطالب رکھے ہوئے ہیں جو کھلتے رہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایک چھوٹے سے حصہ میں جو کچھ مراد ہے وہ سب کچھ الفاظ میں بتایا جاتا تو قرآن کریم اتنا بڑا ہو جاتا کہ ابخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن على سبعة أحرف