خطبات محمود (جلد 5) — Page 328
خطبات محمود جلد (5) ۳۲۸ گلے میں خراش ہے یا ریزش ہے۔اس کو دیکھ کر اصل مرض سمجھ لے گا اور جھٹ اپنا نسخہ استعمال کرنے کے لئے کہہ دے گا کیونکہ اس نسخہ سے کبھی اسے بھی فائدہ ہوا تھا۔اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچے گا کہ آیا اس کو وہ بیماری ہے بھی یا نہیں جو مجھے تھی۔اور اگر وہ یہ خیال بھی کرے تو بھی معلوم نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں یہ قابلیت ہی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے وہ اپنا نسخہ استعمال کرنے کے لئے ضرور بول اُٹھے گا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ہر جگہ اور ہر مرض میں اس سے فائدہ ہوگا۔میں نے خود بعض بوڑھی عورتوں کو دیکھا ہے خواہ کوئی کتنا ہی اعلیٰ طبیب مریض کے لئے نسخہ تجویز کر رہا ہودہ فوراً اپنانسخہ پیش کر دیں گی کہ اس کو استعمال کرنا چاہئیے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اپنے نسخہ کومفید اور عمدہ بجھتی ہیں۔اسی طرح لوگ عمدہ عمدہ لباس پہن کر مجالس میں جاتے ہیں جس سے مقصودا اپنی بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔اگر کوئی غریب ہو اور سردی کی وجہ سے اسے موٹا اور بدنما کپڑا پہنا پڑے تو وہ اُسے نیچے پہن کر اوپر اچھا کپڑا پہنتا ہے تا کہ اچھے کپڑے کو ظاہر کرے اور بُرے کو چھپائے۔تو چھپانے کی چیز ہمیشہ ادنی ہوا کرتی ہے اور جو اعلیٰ ہو اس کو ظاہر کیا جاتا ہے۔بُری چیز کو تو بعض جانور بھی چھپاتے ہیں۔بلیاں پاخانہ پر مٹی ڈال دیتی ہیں یا اگر کپڑے پر ہو تو اس کپڑے کو الٹا دیتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بُری چیز کو چھپانا نہ صرف انسان کی فطرت میں ہے بلکہ بعض جانوروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی اور اس کے اظہار کے لئے بہت طریق استعمال کئے مگر کسی نے توجہ نہ کی۔آخر اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی جب لوگ دوڑ کر آگ بجھانے کے لئے آئے تو اتفاقاً ایک عورت کی انگوٹھی پر نظر پڑ گئی۔اُس نے کہا کہ بہن یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی تھی۔اُس نے کہا کم بخت اگر تو اس کے متعلق پہلے ہی پوچھ لیتی تو میرا گھر کیوں جلتا۔ایسا تو کوئی بیوقوف ہوگا جو ایک انگوٹھی کے دکھانے کے لئے اپنے گھر کو آگ لگا دے مگر ہاں اس حکایت کے بنانے والے نے اس سے یہ ظاہر کیا ہے کہ انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ اپنی اچھی چیز کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جب انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے اور پھر مذہب خدا کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے تو جس کے پاس یہ ہو اس کے دل میں اس کے ظاہر کرنے کے لئے کم از کم اس عورت جتنا تو جوش ہونا چاہئیے جس نے انگوٹھی دکھانے کے لئے اپنے گھر کو آگ لگادی تھی۔جس کے پاس سچا مذہب ہوا سے تو اس وقت تک چین نہیں آنا چاہیے جب تک کہ اپنے مذہب کا اظہار دوسروں پر نہ کر لے۔انگوٹھی کو اگر لوگ دیکھ بھی لیتے تو انہیں کیا فائدہ ہوتا۔کچھ نہیں۔مگر مذہب تو ایک ایسی چیز ہے کہ اگر یہ کسی شخص کو دی جائے تو دینے والے کو خود بھی اس سے فائدہ ہوتا ہے اور جتنا کسی کو دے اتنا ہی اپنے پاس اور زیادہ پاتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے جو دوسرے کو دیتے ہیں ان کو خدا اور دین کے سمجھنے