خطبات محمود (جلد 5) — Page 309
خطبات محمود جلد (5) ۳۰۹ یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ اس حدیث میں کواکب کے اثرات سے انکار کیا گیا ہے۔پھر وہ اس یقینی اور مشاہدہ میں آئی ہوئی بات کا انکار کرنے لگ جاتے ہیں کہ نہیں کو اکب کا کوئی اثر نہیں حالانکہ ان کا اثر ہوتا اور ضرور ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی ذات کو بالکل نظر انداز کر کے بکلی ستاروں پر انحصار کرنا کہ بارش جو برساتے ہیں تو یہ ستارے ہی برساتے ہیں یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں۔مگر ایسا شخص خدا کا منکر نہیں۔جو خدا کو اصل موجب قرار دیتا ہے اور اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہی ان ستاروں کو پیدا کیا اور ان میں اثرات رکھے اور اسی کے ارادے کے ماتحت وہ اپنا اثر کرتے ہیں۔دیکھئے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینا شرک ہے مگر یہ عقیدہ کہ ملائکہ خدا کا کلام لاتے ہیں تثبیت قلب وغیرہ کرتے ہیں شرک نہیں ہے۔لیکن ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔مشرک اور کافر بھی مانتے ہیں کہ ملائکہ ہیں اور وہ کچھ کام کرتے ہیں اور مسلمان بھی مانتے آئے اور مانتے ہیں کہ فرشتے ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری اور لازمی ہے مگر باوجود اس کے کافر مشرک کہلائے۔کیوں؟ اسی لئے کہ کفار کا ماننا اس رنگ میں ہے کہ فرشتے جو کچھ کرتے ہیں خود ہی کرتے ہیں۔مگر مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے تمام کام خدا تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت ہوتے ہیں۔اس لئے یہ شرک نہیں۔ایک دفعہ آنحضرت کے پاس ایک اعرابی آیا۔آپ نے پوچھا تمہارا اونٹ کہاں ہے۔اُس نے کہا کہ باہر کھلا چھوڑ دیا ہے اور اللہ پر توکل کر کے آپ کے پاس آ گیا ہوں۔فرمایا جاؤ اونٹ کا گھٹنہ باندھو پھر توکل کرو ا۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے کہ اسباب اور ذرائع سے کام نہ لینا اور پھر یہ کہنا کہ میں نے خدا پر توکل کیا ہے خدا کی آزمائش کرنا ہے لیکن ایک ادنی انسان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ بادشاہ کی آزمائش کرے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے سامان کو ترک کرنے والا اور ان کو لغو قرار دینے والا متوکل نہیں کہلا سکتا بلکہ ان ذرائع کو جو خدا نے پیدا کئے ہیں کام میں لا کر پھر انہی پر اپنی کامیابی کا انحصار نہ کرتے ہوئے کامیابی کی امید خدا تعالیٰ پر ہی رکھنے والے کا نام متوکل ہے۔ہاں خدا تعالیٰ خود اگر کسی خاص ذریعے سے کام لینا منع فرمادے تو وہ الگ بات ہے ورنہ اُس کے پیدا کردہ سامان کو لغو قرار دے کر ان کو استعمال میں نہ لانا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرنا ہے۔دیکھو طاعون کا ٹیکہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ایک ذریعہ صحت ہے اور تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اس وقت تک یہ ایک عمدہ علاج ہے مگر حضرت صاحب نے اپنی جماعت کو اس کے لگوانے سے منع فرمایا ہے حالانکہ آپ نے یہ بھی تسلیم فرمایا ہے کہ ٹیکہ بھی ایک علاج ہے۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے خود اس ذریعہ کو استعمال میں لانے سے روک دیا اس لئے آپ نے ل ترمذی کتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب حدیث اعقلها و توکل) ۲ کشتی نوح