خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 307

خطبات محمود جلد (5) تا کہ جیسا آدمی ہو ویسا اُسے جواب دیا جائے۔اس طرح پوچھنے پر آگے سے یہ جواب ملتا ہے کہ میں ہوں۔ایک دفعہ کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر دستک دی۔آپ نے فرمایا من۔دستک دینے والے نے کہا انا۔یعنی میں ہوں۔آپ نے فرمایا کیا میں میں نہیں ہوں۔یہ کہنے سے میں تم کوکس طرح پہچان لوں۔پس اگر پوچھا جائے تو اپنا نام بتانا چاہیئے تا پوچھنے والا پہچان لے کہ کون ہے۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دستک دے کر دروازہ کے سوراخوں سے دیکھتے رہتے ہیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر دستک دینے والے نے اس طرح کیا۔آپ نے فرمایا یہ مجھے بعد میں پتہ لگا ہے اگر میں اُس وقت دیکھ لیتا تو اس کی آنکھیں پھوڑ دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مکان پر جا کر دستک دیتے تو اس سے دوسری طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے اور جب اندر سے کوئی آتا تو السلام علیکم کہ کر اُس کی طرف لوٹتے سے۔اس طرح کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے۔کئی مکان ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی کمرہ میں تمام گھر کے آدمی رہتے ہیں۔جب اس کا دروازہ گھلتا ہے تو سامنے مستورات بیٹھی ہوتی ہیں اگر کوئی دروازہ کے سامنے مُنہ کر کے کھڑا ہوگا تو اس کی نظر ضرور اندر پڑے گی اور اس طرح بے پردگی ہوگی۔اسی وجہ سے رسول کریم دائیں یا بائیں طرف مڑ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔یہ وہ آداب ہیں جو شریعت اسلام سکھاتی ہے۔گو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اگر ان پر عمل کیا جائے تو نہایت سکھ اور آرام کی زندگی حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اسلام کا ہر ایک حکم بہت مفید اور فائدہ رساں ہوتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو پھر بھی ان احکام پر جو تمدن کے متعلق ہیں کبھی کبھی بیان کرتار ہوں گا تا کہ وہی باتیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے بتائی ہیں ان پر ہماری جماعت عمل کرے اور دوسروں سے عمل کرائے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق دے۔بخاری کتاب الاستیذان باب اذا قال من ذا فقال انا۔ے صحیح مسلم کتاب الادب باب تحریم النظر فی بیت غیرہ۔الفضل ۴ /نومبر ۱۹۱۶ء) سنن ابی داود کتاب الادب باب كم مرة يسلم الرجل في الاستيذان۔