خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 301

خطبات محمود جلد (5) ٣٠١ تو دشمنوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اسلام میں جزوی مسائل کے متعلق بھی اس طرح کھول کھول کر بتادیا گیا ہے جن سے مسلمان بہت فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔اس زمانہ میں مسلمانوں کے دین سے بعد ہو جانے کی وجہ سے وہ تمدن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قائم کیا تھا بہت کمزور ہورہا ہے اور باوجود اس کے کہ اسلام نے تمام مسائل کو ایسے تفصیلی رنگ میں بیان کر دیا ہے کہ جس کی نظیر کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔تاہم مسلمان دن بدن گرتے جارہے ہیں۔احکام کے لحاظ سے تو کسی مذہب کی کوئی کتاب قرآن کریم اور احادیث کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن اب مسلمان عمل کے لحاظ سے تمام لوگوں سے پیچھے ہیں۔وحشت، خود پسندی، لڑائی جھگڑے ان میں بہت بڑھ گئے ہیں۔مدنیت کو چھوڑ کر بدویت کی طرف جھک گئے ہیں۔اسلام تمدن سکھانے والا مذہب ہے اور انسان کو تمدن سے وابستہ کر دیتا ہے اس کا ثبوت اس سے ہی ملتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فتن کے وقت مومن کو چاہئیے کہ جنگل میں چلا جائے ا یعنی ایسے وقت جبکہ ضلالت اور گمراہی حد سے بڑھ گئی ہو اور اس کا علاج سوائے خدا کے کسی فرستادہ کے اور کوئی نہ کر سکتا ہو تو چاہیے کہ عام لوگوں سے علیحدہ ہو جائے۔اس سے پتہ لگا کہ مومن کا اصل کام تو یہی ہے کہ لوگوں میں رہے۔ان سے تعلقات رکھے۔ہاں سخت تاریکی کے وقت اسے علیحدہ ہو جانا چاہیئے۔اگر ایسی حالت نہ ہو تو پھر یہی بہتر اور ضروری ہے کہ لوگوں میں رہے۔تمدنی تعلقات بڑھائے۔انہیں اسلام کی تعلیم دے۔تو تمدن اور اسلام دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔جہاں اسلام ہوگا وہاں تمدن بھی ہوگا۔ہاں اگر کوئی اسلامی احکام کے خلاف کرتا ہے اور پھر تمدن نہیں رہتا تو یہ اسلام کا قصور نہیں بلکہ اس کا اپنا قصور ہے۔اگر کوئی شخص کھانا نہ کھائے اور کہے کہ میرا پیٹ نہیں بھرتا۔تو ہم کہیں گے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کھانا کھائے بغیر پیٹ بھر جائے۔ہاں اگر کوئی کھانا کھائے جائے اور پھر پیٹ نہ بھرے تو پھر یہ اُسے کہنے کا حق ہو سکتا ہے کہ یہ کھانا ہی رڈی ہے۔اسی طرح اگر کوئی قوم اسلامی قواعد پر عمل ہی نہیں کرتی تو اس کی کمزوری اور نا اہلی اسلام کی کمزوری نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اس پر عمل ہی نہیں کرتی۔ہاں اگر وہ عمل کرے اور درست طریق سے عمل کرے پھر کمزور کی کمزور ہی رہے تو کہا جائے گا کہ اس تعلیم کا نقص ہے۔لیکن اس وقت تک دُنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہوئی کہ جو اسلام کے بتائے ہوئے قوانین حمدن پر چلی ہو اور پھر وہ اعلیٰ درجہ کی متمدن نہ ہوگئی ہو۔اس زمانہ میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسلامی قواعد پر عمل نہیں کرتے اور بخاری کتاب الفتن باب التعرب في الفتن۔