خطبات محمود (جلد 5) — Page 300
خطبات محمود جلد (5) 34 دیگر مذاہب پر اسلام کی فضیلت (فرموده ۲۰/اکتوبر ۱۹۱۶ء) سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا:- يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَانِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ، فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوا فِيْهَا أَحَدًا ( النور : ۲۹،۲۸) فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ ، وَإِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوا هُوَ ازْکى لَكُمْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ اسلام کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیگر مذاہب پر جو فضیلتیں حاصل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں ایسے مسائل جو ہیں تو جز وی لیکن حمدن یا اخلاق یا عظمت الہی یا اللہ تعالیٰ کی محبت کے پیدا کرنے میں ان کا بڑا دخل یا اثر ہے ان کو بالتفصیل بیان کرتا ہے اور یہ فضیلت ایک ایسی بین اور روشن فضیلت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی جبکہ ابتدائی زمانہ تھا اور لوگوں کا حسد اور بغض بہت بڑھا ہوا تھا اور بعد میں بھی جبکہ اسلام کے متعلق مخالفین کے دلوں میں غصہ اور کینہ بہت سرایت کر گیا تھا اس کو تسلیم کیا گیا ہے۔چنانچہ یہود کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ان کو اِس بات کا اقرار تھا اور وہ یہ کہتے کہ اسلام نے جس تفصیل سے باتیں بیان کی ہیں اور کسی مذہب نے نہیں کیں۔گویا ان کو اسلام کی ایسی باتوں پر رشک آتا ہے۔اور کسی نے کہا ہے الفضل ما شهدت به الاعداء کہ خوبی وہی ہوتی ہے جس کا اقرار دشمن کرے۔بخاری کتاب الایمان باب زيادة الايمان و تنقیصه -