خطبات محمود (جلد 5) — Page 299
خطبات محمود جلد (5) ۲۹۹ کہ دیکھو تمام اشیاء تمہارے لئے ہلاکت کا باعث ہو رہی ہیں۔طاعون نے تمہاری زندگیاں تلخ کردی ہیں۔قحط سالی نے تمہاری آنکھوں کے آگے دُنیا اندھیر کر دی ہے۔تم جس طریق سے عزت چاہتے ہو اس سے تمہارے لئے ذلت کا سامنا ہوتا ہے۔تم چاہتے ہو عروج ہو اور ہوتا زوال ہے غرض جو اسباب بھی تم استعمال میں لاتے ہو تمہارے خلاف ہی نتائج پیدا کرتے ہیں تو پھر تم اب بھی کیوں نہیں خدا کی طرف رجوع کرتے۔مگر مسلمانوں کی طرف سے یہی جواب ملتا رہا قحط اور بیماریاں ہمیشہ ہوتی آئی ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔معلوم ہوتا ہے ان کی قسمت میں ابھی اور بہت کچھ مصائب لکھے ہیں۔جب تک وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں خدا کی طرف رجوع نہیں لائیں گے۔میں نے ایک ٹریکٹ بنگال میں تقسیم کرنے کے لئے شائع کیا تھا۔ایک شخص نے اسے پڑھ کر مجھے خط لکھا کہ تم جو اس بات پر زور دیتے ہو کہ مہدی آگیا، میسج آ گیا۔مہدی کس طرح آسکتا ہے جبکہ ابھی ایک حکومت مسلمانوں کی باقی ہے۔چند ہی روز گذرے کہ ترک بھی شریک جنگ ہو گئے اور خدا نے کہا کہ یہ برائے نام حکومت اور تھوڑی سی نعمت بھی تم رکھنا نہیں چاہتے وہ بھی ہم چھین لیتے ہیں۔اب تک بہت سا علاقہ ان کے قبضہ سے نکل چکا ہے۔اگر بفرض محال جنگ کے خاتمہ تک وہ بچ بھی رہے تو کیا طاقت باقی رہے گی۔نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ہماری جماعت اس لحاظ سے تو ترقی پر ہے کہ دُنیا کی محبت سے ان کے دل سرد ہیں۔مگر اس سورۃ کے پچھلے حصے سے مجھے خوف آتا ہے کہ ابھی تک یہ بات ان میں پیدا نہیں ہوئی۔حسد اور عداوت ذراذراسی باتوں پر لڑائیاں اور جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔نفثت کے معنے چپکے سے کانوں میں کچھ پھونک دینا۔نفقت فی العقد وہ لوگ ہیں جو چپکے چپکے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہ کہلا کر تعلقات اور دوستیاں تو ڑ وادیتے ہیں اور بجائے دوست کے ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتے ہیں۔سچی دوستی اور محبت دُنیا میں ہی مفید نہیں ہوتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دنیا میں سچی دوستی اور محبت کرنے والے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔تو فرمایا ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے بھی تم اللہ ہی کے حضور پناہ مانگو۔ہماری جماعت کو اس بات کی طرف بہت کم توجہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہم کو تمام اشیاء کے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور ہم کو ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف راہنمائی کرے اور کوئی شخص ہم میں دوستیوں اور محبتوں کو قطع کرنے والا نہ ہو اور ایک دوسرے کی ترقی کو دیکھ کر ہمارے دل میں حسد پیدا نہ ہو بلکہ ہم خوش ہوں کہ ہمارے بھائی کو خدا نے یہ ترقی دی ہے۔(الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۶ء)