خطبات محمود (جلد 5) — Page 20
خطبات محمود جلد (5) ۲۰ یہ سود در سود ہو کر واپس ملتا ہے۔ایسے لوگوں کو فائدے ہی فائدے ہیں ان کا مال بڑھتا ہی ہے کم نہیں ہوتا۔کیونکہ جوترقی اور فائدہ خدا کی طرف سے آتا ہے وہ ستر گنا کے قریب ہوتا ہے اس سے پہلی بات تو یہ ہوگی کہ جماعت بڑھے گی۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کو اور بڑھاتا ہوں اے اللہ تعالیٰ کے رستہ کی طرف لانا اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جن قوموں نے اس کام کو اپنے ہاتھوں میں لیا وہ کبھی ذلیل و رسوا نہیں ہوئیں بلکہ وہ کامیاب اور مظفر و منصور ہی ہوئی ہیں۔جب خدا تعالیٰ ترقی کا وعدہ کرتا ہے تو پھر اور کون اسے روک سکتا ہے۔اس وقت ہماری جماعت نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچانے کا ذمہ لیا ہے۔لیکن ہماری جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ لوگ ہماری بات کو نہیں سنتے اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اس راہ میں کوشش کرتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتے ہیں بلکہ اس آیت میں یہ بھی فرمایا یدعون الى الخير ويأمرون بالمعروف یعنی ان کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں اور ان کو ان کی کوششوں کا بدلہ دیا جاتا ہے خواہ کوئی مسلمان ہو یا نہ ہو مانے یا نہ مانے۔اس آیت میں یہ الفاظ نہیں کہ اگر کوئی مسلمان ہی ہو۔تو تب تمہیں بدلہ دیا جائے گا بلکہ یہ فرمایا کہ جو کوشش کرے گا اسے بدلہ دیا جائے گا۔خواہ کوئی اس کی بات کو مانے یا نہ مانے۔ہماری جماعت میں کم لوگ ہیں جن کے ذریعہ سلسلہ میں لوگ آئے ہیں۔اکثر حصہ وہ ہے جو اس کام میں پوری طرح اپنا فرض ادا نہیں کرتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کا کام ہے۔بعض ایسے ہیں جن کے ذریعہ ایک بھی جماعت میں نہیں آیا۔بلکہ ۸۰ فیصدی ایسے لوگ ہوں گے جن کے ذریعہ کوئی بھی فرد سلسلہ میں نہیں آیا۔لیکن جو کوشش کرتے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وه ضرور کامیاب ہوں گے۔میں جب خلیفہ ہوا مجھے یہ افسوس ہوا کہ میں نے تو ارادہ کیا ہوا تھا کہ دنیا میں پھر کر لوگوں کو ہدایت کی دعوت دوں گا۔اب خلافت کی وجہ سے یہ کام تو ہو نہیں سکتا۔انہی ایام میں خدا تعالیٰ نے ایک عیسائی نوجوان کو بھیج دیا کئی دن تک بحث ہوتی رہی آخر خدا تعالیٰ نے اسے مسلمان بنادیا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھایا کہ یہ ضروری نہیں کہ باہر ہی جا کر لوگوں کو سمجھایا جائے جہاں ہم کسی آدمی سے کام لینا چاہتے ہیں وہیں لے سکتے ہیں۔گو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت ترقی کر رہی ہے۔مگر ترقی کی ل سورة البقرة آیت ۲۶۲ وہ