خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 286

خطبات محمود جلد (5) ۲۸۶ ہے بلکہ خلق سے وہی مراد لے گا جو حضرت مسیح موعود نے لی ہے کہ عکس اور عکس بھی ایسا جس میں تمام خوبیاں آگئی ہوں۔ہر نبی میں کچھ خوبیاں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سارے انبیاء کی خوبیاں جمع تھیں۔وہ خوبیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے حاصل کیں۔ہاں آپ ظل اس لئے ہیں کہ آپ کو جو کچھ ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ملا بلا واسطہ کچھ نہیں ملا۔تو ظن کے لفظ میں اختلاف نہیں بلکہ اس کی تشریح میں اختلاف ہے۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظلن ہو کر آپ کے تمام کمالات حاصل کر لئے تھے اور غیر مبائعین کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود وہ تاریک حصہ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کثیف وجود کے خدا تعالیٰ کے سامنے آنے سے پیدا ہو گیا تھا۔یہی اختلاف ہمارا اور غیر مبائعین کا پہلے تھا اور یہی اب ہے۔اس خط کے لکھنے والے نے معلوم ہوتا ہے یہ سمجھ رکھا تھا کہ لفظوں میں اختلاف ہے۔مبائعین ظلی نبی نہیں مانتے اور اب انہوں نے مان لیا ہے۔حالانکہ ہم جس طرح پہلے ظلی نبی مانتے تھے اسی طرح اب بھی مانتے ہیں۔اس نے محبت میں اندھا ہو کر ہماری پہلی تحریروں سے غلط نتیجہ نکالا ہے۔دوسری بات وہ یہ لکھتا ہے کہ جب تم بھی کامل نبی مستقل نبی اور حقیقی نبی کی وہی تعریف کرتے ہو جو متفقہ مبائعین و غیر مبائعین اصحاب کی ہے تو بجائے اس کے کہ لوگوں کو اپنے پاس تمہاری بنائی ہوئی ڈکشنری رکھنی پڑے کہ کن معنوں میں تم نبی کہتے ہو تم کیوں حضرت صاحب کو مجد د نہیں کہتے جس کے لئے کسی ڈکشنری کی ضرورت نہیں۔معلوم ہوتا ہے اس نے مجد د اور رسول میں فرق ہی نہیں سمجھا۔امت محمدیہ میں مجد دوں کی پیشگوئی اس طرح ہے کہ پہلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جو نبی نہیں تھے مگر خدا تعالیٰ ان سے کلام کرتا تھا۔اسی طرح میری اُمت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے۔اور محدث تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو بھی کہا تھا لیکن حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں ہے۔“ ( ایک غلطی کا ازالہ ص ۳) پس جب کوئی محدث نبی نہیں ہو سکتا تو مجد دکہاں نبی ہو سکتا ہے مجد دکا لفظ تو اور لوگوں پر بھی بولا جاسکتا ہے۔اگر اس حدیث کو پیش نظر نہ رکھیں تو غیر مذاہب کے لوگوں کے متعلق بھی یہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ کسی مٹی ہوئی بات کو قائم کرنے اور کسی چیز کی اصلاح کرنے والا مجد د ہوتا ہے۔جو بھی اس طرح کرتا ہے اسے مجد و کہا جاسکتا ہے۔لیکن کسی محدث یا مجد د کوکسی لغت میں نبی نہیں کہا گیا۔پھر ہم حضرت مسیح موعود کو محدث یا مجد د کیونکر کہیں۔آپ کو ایک دفعہ یہی کہا گیا تھا کہ آپ اپنے آپ کو نبی کیوں کہتے ہیں محدث کیوں نہیں کہتے