خطبات محمود (جلد 5) — Page 263
خطبات محمود جلد (5) ۲۶۳ تو اس کے سہارا لینے سے ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے گرنے کا اصل باعث اس شخص کا سہارا لینا نہیں۔بلکہ وہ گھن ہے جو اسے اندر ہی اندر کھا چکا ہے اگر اسے گھن نہ کھا چکا ہوتا تو سہارا چھوڑ اگر وہ شخص زور بھی لگاتا تو بھی نہ گرتا۔مگر گھن کے کھا جانے کی وجہ سے محض سہارا لینے سے ہی گر گیا۔اسی طرح لوگ چھتیں ڈالتے ہیں اور گرمی کے موسم میں ان کے او پر جا بیٹھتے ہیں۔کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ تمام چھت پر آدمی ہی آدمی بیٹھے ہوتے ہیں لیکن وہ ان کے بوجھ کو سہارے رہتی ہے۔لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کے بوجھ سے اس میں سوراخ ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ گھن کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔اس سوراخ کے ہونے کا باعث تو اسی آدمی کا بوجھ ہوا جو چھت کے اوپر چڑھا تھا۔مگر وہ چھت پہلے سے ہی اسی انتظار میں تھی کہ مجھ پر اس کا بوجھ پڑے۔اور میں گروں۔یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔ہمیشہ وہی قو میں گرتی ہیں کہ جن کو اندرہی اندر گھن کھا چکا ہوتا ہے اور باہر سے حملہ کرنے والا ان کے کے گرانے کا باعث بن جاتا ہے دیکھنے والے کہتے ہیں کہ فلاں قوم پر فلاں نے حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔مگر وہ نہیں جانتے کہ وہ قوم پہلے سے ہی تباہ ہونے کو تیار بیٹھی تھی۔اور اس بات کا ثبوت اس طرح بھی مل سکتا ہے کہ اس قوم کا کامیابی کے زمانہ سے مقابلہ کر کے دیکھنا چاہئیے کہ آیا وہ جوش وہ اتحاد اور وہ سامان جو اس وقت اسے حاصل تھے وہی تباہی کے وقت بھی اس کے پاس موجود تھے یا نہیں۔اگر ویسے ہی موجود ہوں اور پھر کوئی قوم اس پر حملہ آور ہو کر اسے تباہ و برباد کر دے تو کہا جا سکے گا کہ دوسری قوم نے اپنی زیادہ طاقت اور کثرت سامان کے ذریعہ اس پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔لیکن اگر تباہ ہونے والی قوم میں وہ جوش وہ قوت اور وہ اتحاد نہ ہو جو اس میں کامیابی کے زمانہ میں تھا اور اس کے پاس وہ سامان موجود نہ ہوں جن کے ذریعہ اس نے فتح حاصل کی تھی اور پھر کوئی قوم اسے مغلوب کر لے۔تو صریح طور پر معلوم ہوگا کہ بیرونی قوم کا حملہ تو اس کی تباہی اور بربادی کے لئے ایک بہانہ ہی تھا بلکہ اس نے اپنی کمزور اور ناتوان حالت سے خود یہ جرات اور دلیری دلائی تھی کہ وہ اس پر حملہ آور ہو۔اگر اسے یہ معلوم ہوتا کہ وہ مضبوط اور طاقتور ہے تو کبھی حملہ ہی نہ کرتی۔