خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 248

خطبات محمود جلد (5) ۲۴۸ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ - لَم ہم نے تمہیں جو علم دیئے ہیں وہ ایک ایسی نہر ہے کہ جو بھی ختم نہیں ہوسکتی اور جس کی تہ نہیں ہے۔ایسی نہر پر جولوگ کھڑے ہوں ان سے اگر کوئی ایک گلاس مانگے۔اور وہ کہیں نہیں دیتے تو ان سے بڑھ کر بخیل اور کنجوس اور کون ہو سکتا ہے۔جس طرح ہوا سے کوئی بخل نہیں کرتا اسی طرح اسلام کی تعلیم سے دوسروں کو واقف کرنے سے اس وقت تک کوئی بخل نہیں کرتا جب تک کہ جاہل مطلق اور نادان نہ ہو۔اگر کوئی ایسی نادانی کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے علم میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر کار بالکل بیکار ہو جاتا ہے۔مجھے تو اگر خدا تعالیٰ کوئی نکتہ سمجھا تا ہے یا کوئی علم دیتا ہے تو میں تو یہی چاہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے دوسروں تک پہنچا دوں اس سے ایک تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ فائدہ جو مجھے حاصل ہو رہا ہوتا ہے وہی دوسروں کو ہونے لگتا ہے۔پھر اس پر ترقی کر کے وہ جو باتیں پیدا کریں گے وہ مجھے مل جائینگی اور میں ان سے فائدہ اٹھالوں گا۔لیکن وہ لوگ جو کسی بات کو اپنے تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں ایک خطرناک مرض میں مبتلا ہیں آپ لوگوں کو چاہئیے کہ جہاں تک ہو سکے اس مرض کے دور کرنے کی کوشش کریں اور جو اچھی اور عمدہ بات خواہ دین کے متعلق ہو یا دنیا کے انہیں بتانے سے دریغ نہ کیا جاوے یہ ترقی کا بہت بڑا راز ہے۔اگر کوئی اس کو سمجھ لے تو اس کا علم روزانہ ترقی کرتا رہے گا۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب یادرکھنا چاہئیے کہ جس چشمہ سے ان کے علوم نکلتے ہیں وہ کوثر ہے اور ہمارے تمام علوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشہ چینی اور آپ کے طفیل ہیں۔اور اس چشمہ کا نام خدا تعالیٰ نے کوثر رکھا ہوا ہے کہ جس میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔بلکہ جس قدر بھی ضرورت ہو اس سے بڑھ کر اس میں سے نکلتا رہتا ہے۔کوثر اس چشمہ کا بھی نام ہے جو جنت میں ہوگا۔اس میں بھی کمی نہیں آتی۔مگر اسلام کی تعلیم جہاں سے نکلتی ہے اس کا نام بھی کوثر ہے۔پس جس چشمہ سے ہم پانی لیتے ہیں اس کا نام خدا تعالیٰ نے کوثر رکھا ہوا ہے۔پھر کیسی نادانی ہوگی۔اگر کوئی یہ خیال کرے کہ اس میں سے خرچ کرنے سے کمی آجائیگی اور پھر یہ کیسی نادانی ہوگی کہ کوئی مانگے اور ہم نہ دیں۔پھر یہ بھی کیسی نادانی ہوگی کہ جو مانگنا نہیں جانتے ان کو ہم خود نہ