خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 243

خطبات محمود جلد (5) ۲۴۳ بڑھتا ہے۔اور جو لوگ اس کو خرچ نہیں کرتے اور خرچ کرنے کے عادی نہیں ہوتے۔ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ایک بخیل روپیہ جمع کرتا ہے تو اس کا خزانہ بڑھتا ہے لیکن برخلاف اس کے ایک عالم اگر علم جمع کرتا جاتا اور اسے خرچ نہیں کرتا تو اس کا خزانہ گھٹتا جاتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تم محنت و مزدوری کر کے روپیہ جمع کرتے رہو اور دوسرے کو کہا جائے کہ تم علم پڑھ کر اکٹھا کرتے رہو تو کچھ عرصہ کے بعد ان دونوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔تو وہ جو روپیہ کماتا اور اسے خرچ نہ کرتا بلکہ جمع کرتا تھا اس کے پاس بہت سا روپیہ ہو گیا۔لیکن وہ جو علم پڑھ کر اسے خرچ نہیں کرتا رہا۔اس نے کچھ کھو دیا ہوگا کیونکہ مالدار اگر روپیہ کو جمع کرتا رہتا ہے تو روپیہ ویسے کا ویسا ہی پڑا رہتا ہے لیکن اگر علم کو رکھ چھوڑا جائے تو ذہن اس خزانہ کور ڈی حالت میں کر دیتا ہے۔مگر باوجود اس کے کس قدر افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ مال میں بخل کرنے والوں پر ہنستے اور انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے عقل دی۔فہم دیا۔علم دیا۔سمجھ دی۔وہ ان چیزوں کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے بخل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔مسلمانوں میں ایک جماعت اس قسم کی پیدا ہو گئی تھی کہ جو صوفی کہلاتے تھے۔ان کو اگر کوئی بات معلوم ہو جاتی تو اس کو بڑا چھپا چھپا کر رکھتے۔اور دوسرے کو نہ بتاتے تھے۔ہاں مرنے کے وقت اگر کسی پر بڑے ہی خوش ہوتے اور اس پر بڑا ہی انعام کرنا چاہتے تو کوئی ایک آدھ بات بتا دیتے۔اور اسی طریق عمل کو بہت اچھا سمجھتے۔حالانکہ اس کا نتیجہ بہت خطرناک نکلا۔اس طرح کرنے سے ان کی اولا دان سے جاہل نکلی۔ان کی اولا دان سے جاہل نکلی۔پھر ان کی اولا دان سے جاہل نکلی اور آخر کار یہ ہؤا کہ مسلمانوں میں کچھ نہ رہا۔نہ علم رہا نہ تقویٰ رہا۔نہ فہم رہا۔نہ عقل رہی۔تمام علوم وفنون میں یہی حال ہو گیا تھا اگر کسی طبیب کو کوئی اچھا نسخہ ہاتھ آجاتا تو وہ دوسرے کو نہ بتا تا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ علم ہی محدود ہو گیا۔اور اب دیکھ لو کہ طب کیسی رڈی حالت میں پہنچ گئی ہے۔یا تو وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں میں بڑے بڑے طبیب اور معالج تھے مگر ان کے آگے دوسروں کو نہ بتانے کی وجہ سے آہستہ آہستہ اعلیٰ