خطبات محمود (جلد 5) — Page 226
خطبات محمود جلد (5) ۲۲۶ اور اس کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ کسی کافر کے مقابلہ سے بھاگ آئے۔اور وہ تو خاص شہرت اور ناموری رکھتے تھے۔اس لئے ان کے واپس لوٹنے سے مسلمانوں پر بہت برا اثر ہؤا۔اور وہ گھبرا گئے کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ضرار کیوں واپس لوٹ آیا ہے۔چنانچہ بعض صحابہ اس بات کے دریافت کرنے کے لئے ان کے پاس گئے۔ایک صحابی ان کے خیمہ کے دروازہ تک ہی پہنچا تھا کہ وہ باہر نکل رہے تھے اس نے پوچھا۔آپ نے یہ کیا کیا ؟ تمام مسلمانوں میں سخت گھبراہٹ اور غیرت پھیلی ہوئی ہے اور وہ بڑے اضطراب سے دریافت کر رہے ہیں کہ آپ جیسا بہادر انسان ایک کافر کے مقابلہ سے کیوں بھاگ آیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ میں ڈر کر نہیں واپس لوٹا تھا بلکہ بات یہ تھی کہ آج میں نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔جب میں دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا تو مجھے خیال آیا کہ اس کا فر نے کئی ایک مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے۔اے ضرار ! کیا تم نے دوزر ہیں اس لئے تو نہیں پہنیں کہ تو اس سے ڈر گیا ہے۔اس خیال سے میں ایسا شرمندہ ہوا کہ گویا میں خدا تعالیٰ کی ملاقات سے ڈرتا ہوں۔اس بات کا مجھ پر اتنا خوف طاری ہوا کہ میں نے کہا کہ اگر ابھی میری جان نکل جائے تو میں جہنم میں ڈالا جاؤں گا اس لئے میں جلدی بھاگا بھاگا واپس آیا۔اب میں نے زر ہیں اتار دی ہیں اور اس کے مقابلہ کے لئے جا رہا ہوں۔چونکہ کافر نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ کئی صحابہ کو شہید کر دیا تھا اس لئے اس کے مقابلہ میں اس صحابی نے بھی ایسی ہی جرات دکھائی۔وہ ایک خاص دشمن تھا اس لئے اس صحابی نے کہا کہ بڑے دشمن کے لئے بڑے ہی دل کی ضرورت ہے۔چنانچہ اس نے اتنا بڑا دل دکھایا کہ زرہیں بھی اتار کر مقابلہ کے لئے گیا۔اور جا کر مار لیا۔تو جس قدر خطرہ بڑا ہوتا ہے بہادر اور جوانمرد انسان اس کے مقابلہ میں جرات بھی اتنی ہی بڑی دکھاتے ہیں۔خطرہ سے ڈرنا اور خوف سے بھاگنا یہ تو بزدلی ہوتی ہے اور یہ بہت کم ہمت اور غیر مستقل مزاج انسانوں کا کام ہوتا ہے۔لیکن ایک ایسا شخص ہوتا ہے کہ دشمن سے ڈرتا نہیں بلکہ مقابلہ کرتا ہے۔له اصابہ جلد ۳ ص ۲۶۹ حالات ضرار بن از در۔