خطبات محمود (جلد 5) — Page 225
خطبات محمود جلد (5) ۲۲۵ نہیں گھبراتا۔بلکہ جتنے زیادہ مصائب اور مشکلات آئیں وہ سمجھتا ہے کہ اتنے ہی زیادہ جوش اور ہمت سے مجھے کام کرنا چاہئیے۔اگر پہاڑوں کے پہاڑ مصائب کے اس پر ٹوٹ پڑیں پھر بھی وہ اسی یقین اور استقلال سے کام کے لئے جاتا ہے جو اسے پہلے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے کام ہی ایسے بنائے ہیں کہ انسان محنت ، تدبیر اور لگا تار کوشش سے انہیں کرے تب کامیابی ہوتو پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں پوری ہمت اور کوشش کئے بغیر چھوڑ کر بیٹھ رہوں اور کام نہ کروں۔میرے سامنے اگر کوئی روک واقعہ ہوتی ہے اور کوئی مشکل پیش آتی ہے تو مجھے تو اپنی انتہائی طاقت اور کوشش سے کام کرنا چاہئیے۔اگر غور کیا جائے تو مصائب اور مشکلات کے وقت جس قدر محنت اور کوشش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اتنی کسی اور وقت نہیں ہوتی۔گویا محنت کرنے کا اصل وقت وہی ہوتا ہے کہ جس کے بعد کامیابی نصیب ہوتی ہے۔دنیا میں جس قدر کامیاب اور نامور لوگ گزرے ہیں ان کی زندگیوں پر اگر نظر کی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے سب سے زیادہ کام کرنے کا وقت وہی ہوا ہے جبکہ سب سے زیادہ مشکلات ان کے سامنے آئی ہیں اور ان کے لئے سب سے زیادہ جرات اور بہادری دکھانے کا وہی موقعہ ہوا ہے جبکہ سب سے زیادہ خوف وخطر ان کو در پیش ہوا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی وقت خطرہ اور تکلیف سے بے پرواہ ہوئے ہیں جبکہ حد سے زیادہ ڈر اور خوف ان کے سامنے آیا ہے۔میں نے بارہا ایک صحابی کا واقعہ سنایا ہے۔ان کا نام ضرار بن از در تھا بڑے بہادر اور دلیر تھے اور بہادری میں خاص شہرت رکھتے تھے۔وہ ایک دفعہ ایسے دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے کہ جس کے مقابلہ میں کئی مسلمان نکل کر شہید ہو چکے تھے۔بعض بڑے بہادر مسلمان بھی اس کے مقابلہ میں گئے۔مگر وہ اتنا طاقتور تھا کہ باوجود ان کے ایمانی جوش اور جرات کے ان کو اس نے شہید کر دیا۔اس کے مقابلہ کے لئے ضرار نکلے جب میدان کے درمیان میں پہنچے تو جلدی سے بھاگ کر واپس لوٹ آئے۔اور اپنے خیمہ میں چلے گئے مسلمانوں میں تو ایک کمزور سے کمزور شخص بھی بُزدلی اور ڈر کا نام تک نہیں جانتا تھا۔