خطبات محمود (جلد 5) — Page 203
٢٠٣ 25 خطبات محمود جلد (5) گورنمنٹ برطانیہ خُدا کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے (فرموده ۴ /اگست ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی حمد کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔جب خدا تعالیٰ اپنا فضل اور احسان کرتا ہے تو پھر اس کی انتہاء مقرر کرنی یا اس کو گننے کی کوشش کرنا نادانی ہوتی ہے دیکھو ابھی تھوڑی دیر ہوئی کہ بارش ہوئی ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے لیکن کیا کسی کی طاقت ہے کہ اس کے قطرے گن سکے۔ہر گز نہیں۔خدا کا ہر ایک جسمانی فضل نمونہ ہوتا ہے روحانی فضل کا۔اور روحانی فضل جسمانی سے بہت زیادہ وسیع ہوتا ہے۔جب جسمانی فضل کا ہی گنا ناممکن ہے تو روحانی فضل کا گنا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے۔پھر خدا کے فضل کی وہ بارشیں جو روحانی رنگ میں ہوتی ہیں کبھی کبھی خاص طور پر بھی ہوتی ہیں جس طرح سخت تپش اور گرمی کے بعد بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔اسی طرح رُوحانی طور پر جب دنیا میں تپش ہو جاتی ہے تو اس کے بعد روحانی بارش بڑے زور سے برستی ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئیے۔کیونکہ انسان اس وقت تک کسی چیز سے خوشی اور راحت محسوس ہی نہیں کرتا۔جب تک کہ اس کے مقابلہ میں اسے دکھ اور تکلیف نہ پہنچ چکی ہو۔ایک ایسا فقیر جس کی آنکھیں ہوں وہ کبھی اس بات پر خوشی کا اظہار نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ کیسی نعمت دی ہے لیکن اگر اسے کوئی ایک پیسہ دے دے گا تو بہت خوش ہوگا اور دینے والے کا شکریہ ادا کرے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ آنکھیں تو اس کے پاس پہلے سے ہی تھیں۔اور پیسہ نیا ملا ہے۔جو کہ اس کے پاس پہلے نہ تھا۔چونکہ اس کی آنکھیں نہیں گئی تھیں۔اس لئے اسے معلوم ہی نہیں کہ یہ بھی