خطبات محمود (جلد 5) — Page 197
خطبات محمود جلد (5) ۱۹۷ تو جہ کبھی کسی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی کسی طرف۔چونکہ انسان کی طبیعت میں مجس کا مادہ ہے۔اس لئے ذراسی آواز آنے پر جھٹ ادھر متوجہ ہو جاتا ہے۔تا معلوم کرے کہ کیا ہوا ہے۔اس سے بچنے کے لئے وہ لوگ جن کو جلوت سے خلوت میتر نہیں آسکتی یا آتی ہے مگر بہت تھوڑی دیر کے لئے۔وہ ایسے وقت دعا کریں جبکہ خاموشی ہو یا ایسی جگہ کریں جہاں کسی قسم کا شور نہ ہو۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے آپ جنگل میں تنہا چلے جایا کرتے تھے۔اس بات کا علم اکثر لوگوں کو نہیں ہے مگر آپ اس راستہ سے جو میاں بشیر احمد کے مکان کے پاس سے گزرتا ہے دس بجے کے قریب سیر کو جانے کے علاوہ اکیلے بھی جایا کرتے تھے۔ایک دن جو آپ جانے لگے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا۔تھوڑی دور چلے تو واپس لوٹ آئے اور مسکرا کر فرمانے لگے پہلے تم جانا چاہتے ہو تو ہو آؤ۔میں بعد میں جاؤنگا اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ اکیلے جانا چاہتے تھے۔میں واپس آ گیا۔غرضیکہ علیحدہ جگہ اور خاموش وقت میں خاص توجہ سے دعا کی جاسکتی ہے۔کیونکہ توجہ کے لئے کوئی بیرونی روک نہیں ہوتی اس لئے طبیعت کا زور ایک ہی طرف لگتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کسی گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا جب تمام زور ایک طرف لگتا ہے تو اپنے راستہ کی ہر ایک روک کو بہا کر لے جاتا ہے۔پھر ایک یہ بھی طریق ہے کہ جب کوئی انسان کسی معاملہ کے متعلق دعا کرنے لگے تو پہلے اپنے نفس کی کمزوریوں کا مطالعہ کرے۔اور اتنا مطالعہ کرے اتنا کرے کہ گو یا اس کا نفس مر ہی جائے اور اسے اپنے نفس سے گھن آنی شروع ہو جائے اور نفس کہہ اُٹھے کہ تو بغیر کسی بالا دست ہستی کی مدد اور تائید کے خود کسی کام کا نہیں ہے۔اور کچھ نہیں کر سکتا۔جب نفس کی یہ حالت ہو جائے تو دعا کی جائے ایسی حالت میں جس طرح ایک بے دست و پا بچہ کی ماں باپ خبر گیری کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی کرتا ہے۔ماں باپ کو دیکھو۔جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو اسے کہتے ہیں خود کھاؤ پیو۔مگر دودھ پیتے بچہ کی ہر ایک ضرورت اور احتیاج کا انہیں خود خیال اور فکر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور بھی انسان کو اپنے نفس کو اسی طرح ڈال دینا چاہئیے۔جس طرح دودھ پیتا بچہ ماں باپ کے آگے ہوتا ہے لیکن اگر نفس فرعون ہوا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہو تو اس کی کوئی بات قبول نہیں ہو سکتی۔اس لئے سب سے پہلے انسان کو چاہیے کہ اپنے نفس کو بالکل گرا دے