خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 196

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۶ جس طرح خواب میں روح کو جسم سے آزاد کر دیا جاتا ہے اسی طرح اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے روح الگ کی جاتی ہے۔چونکہ روح کی صفائی جسم کی صفائی سے تعلق رکھتی ہے۔اور روح کی ناپاکی جسم کی ناپاکی ہے۔اس لئے اگر جسم نا پاک ہو تو روح پر بھی اس کا نا پاک ہی اثر پڑتا ہے۔اور اگر جسم پاک ہو تو روح پر بھی اس کا پاک ہی اثر پڑتا ہے۔ایک واقعہ لکھا ہے۔واللہ اعلم کہاں تک درست ہے مگر ہے نتیجہ خیز۔لکھا ہے کسی شہزادی نے ایک معمولی شخص سے شادی کر لی۔جب وہ دونوں خلوت میں جمع ہوئے تو چونکہ مرد نے کھانا کھا کر ہاتھ نہ دھوئے تھے اس لئے ہاتھوں کی بُو سے اسے اتنی تکلیف ہوئی کہ اس نے کہا اس کے ہاتھ کاٹ دو۔چنانچہ اس کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے۔گو خدا تعالیٰ پر کسی کے گندہ اور ناپاک ہونے کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔مگر خدا تعالیٰ ہر ایک گند اور ہر ایک ناپاکی کو سخت نا پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تمام عبادتوں کے لئے صفائی کی شرط ضروری قرار دی ہے جس طرح وہ شخص جو پیشاب سے بھرے ہوئے کپڑوں کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔اسی طرح وہ دعائیں جو ایسی حالت میں کی جائیں وہ بھی قبول نہیں ہوتیں۔بلکہ جب کوئی انسان گندی حالت میں خدا کے حضور پیش ہوتا ہے تو بجائے فائدہ اٹھانے کے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔یہی ستر ہے کہ صوفیاء نے دعائیں کرنے کا لباس الگ بنا رکھا ہوتا ہے جسے خوب صاف ستھرا رکھتے اور خوشبوئیں لگاتے ہیں۔تو دعا کے قبول ہونے کا یہ بھی ایک طریق ہے کہ دعا کرنے سے پہلے انسان اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا کر لے۔جو شخص غریب ہے وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ ایک الگ جوڑا بنا رکھے اور اسے صاف کر لیا کرے۔اس طرح دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔پھر دعا کی قبولیت کے لئے ایک اور طریق ہے اور وہ یہ کہ دعا کے لئے ایک ایسا وقت اور جگہ انتخاب کرے جہاں خاموشی ہو۔مثلاً اگر دن کا وقت ہے تو جنگل میں کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں سمجھے کہ کوئی میرے خیالات میں خلل انداز نہیں ہو سکے گا یا رات کے وقت جبکہ سب لوگ سوئے ہوئے ہوں دعا کرے۔اس طرح یہ ہوتا ہے کہ خیالات پراگندہ نہیں ہونے پاتے۔جب کسی ایسی جگہ یا ایسے وقت دعا کی جاتی ہے کہ ادھر سے آوازیں آتی رہتی ہیں تو دعا کی طرف خاص توجہ نہیں ہوسکتی اس طرح