خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 194

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۴ دعا کرے گا تو اگر چہ وہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا عادی نہ ہوگا لیکن اپنی دعا کے قبول ہونے کے لئے درود بھیجے گا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی درجات کا موجب ہوگا اور اس طرح اسے بھی انعام مل جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرنے کے لئے ایک بات یہ بھی بیان کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر پھر دعا کی جائے اور یہ کوئی ناروا بات نہیں۔یہ اسی طرح کی ہے کہ جو محبوب سے اچھا سلوک کرتا ہے وہ بھی محب کا محبوب ہو جا تا ہے۔چوتھا گر یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی حمد کرے۔یہ بھی ایک عام طریق ہے جو اسلام کی تعلیم سے بھی معلوم ہوتا ہے۔اور فطرت انسانی میں بھی پایا جاتا ہے دیکھو فقراء جب کچھ مانگنے آتے ہیں تو جس سے مانگتے ہیں اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔کبھی اسے بادشاہ بناتے ہیں کبھی اس کی بلندشان ظاہر کرتے ہیں کبھی کوئی اور تعریفی کلمات کہتے ہیں۔حالانکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس میں وہ کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔مگر مانگنے والا اس طرح کرتا ضرور ہے اور ساتھ ہی اپنے آپ کو بڑا محتاج اور سخت حاجتمند بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کرنے سے میں اپنے مخاطب کو رحم اور بخشش کی طرف متوجہ کرلوں گا اور اللہ تعالیٰ کی تو جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوتی ہے کیونکہ وہی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔اور اسی لئے دوسرے لوگوں کی جو تعریف ہوتی ہے وہ سچی اور جھوٹی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ سب سچی ہی ہوتی ہے۔اس لئے جب کبھی دعا کی ضرورت ہو تو دعا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کر لینی چاہیئے۔چنانچہ سورہ فاتحہ سے ہمیں یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ وہ سب سے بڑی دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائی ہے۔اور ہر روز کئی بار پڑھی جاتی ہے اس میں پہلے خدا نے یہی رکھا ہے کہ الحمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا ہے۔اس میں یہی گر سکھایا گیا ہے کہ جب کوئی دعا کرنے لگو تو پہلے کثرت سے خدا تعالیٰ کی حمد کر لو۔(حمد تمام خوبیوں اور پاکیزیوں کے جمع ہونے اور سب نقصوں