خطبات محمود (جلد 5) — Page 153
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۳ اس میں ایک لطیف بات ہے اور وہ یہ کہ انسان جو اپنی حاجت خدا تعالیٰ کے حضور بیان کرتا ہے وہ مختلف اوقات میں مختلف اشیاء کے متعلق ہوتی ہے کبھی تو وہ انسانوں کے متعلق ہوتی ہے۔کبھی حیوان کے متعلق کبھی جانداروں کے متعلق ہوتی ہے کبھی بے جانوں کے متعلق کبھی خدا کے متعلق ہوتی ہے کبھی ملائکہ کے متعلق کبھی اس دنیا کے متعلق ہوتی ہے۔کبھی اگلے جہان کے متعلق کبھی اس زمین پر رہنے والی چیزوں کے متعلق ہوتی ہے کبھی آسمان کی چیزوں کے متعلق غرض انسان کی مختلف احتیا جیں ہیں اور ایسی وسیع ہیں کہ جن کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔لیکن انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب کسی چیز کی اسے طلب ہوتی ہے تو اس کے حاصل کرنے کے متعلق کوئی ایسا ذریعہ تلاش کرتا ہے جو قریب ہو۔قریب کی کئی قسمیں ہیں۔ایک یہ بھی قریب ہے کہ کوئی ذریعہ جلدی میسر آجائے۔مثلاً ایک شخص سفر پر جانا چاہتا ہے اسے یکہ یا گھوڑا تلاش کرنا ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی ہیکہ یا گھوڑا اس کے مکان کے قریب ہو۔اور کوئی دور۔مگر جب قریب اور دور کا یکہ یا گھوڑا آپس میں یکساں ہوں گے۔یعنی ایک ہی وقت پر اور ایک ہی ایسے آرام سے پہنچاتے ہوں گے تو وہ یہ نہیں کرے گا کہ اپنے مکان کے قریب والے کو نہ لے اور بعید والے کو لے لے۔بلکہ وہ قریب والے کو لیگا اور بعید والے کو چھوڑ دے گا۔تو ہر ایک انسان اپنا مدعا حاصل کرنے کے لئے جو ذریعہ قریب دیکھتا ہے۔اس کو لیتا ہے اور بعید کو چھوڑ دیتا ہے اس کے علاوہ قریب ایک اور رنگ میں بھی ہوتا ہے یعنی وہ ذریعہ جو اپنے مدعا اور منزل مقصود کے قریب تر پہنچا دے۔مثلاً کسی شخص نے ایک جگہ جانا ہے اسے ایک ایسی سواری ملتی ہے جو اسے منزل مقصود سے ایک میل ورے چھوڑ دیتی ہے۔دوسری آدھ میل۔تیسری ایک چوتھائی میل اور ایک عین جگہ پر پہنچا دیتی ہے تو وہ ان میں سے اسی کو اختیار کرے گا جوسب سے قریب پہنچانے والی ہوگی۔دوسریوں کو چھوڑ دے گا۔غرض بہت سے قرب ہیں جن کا کسی چیز میں پایا جانا انسان دیکھتا ہے۔اور جب وہ سارے قرب کسی میں پالیتا ہے۔تو اس کو اپنے مدعا کے حصول کے لئے لے لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ کہ انسان اپنے مختلف مدعاؤں کے لئے کوشش کرتا ہے۔اور ان کے لئے دیکھتا ہے کہ کونسا ذریعہ اختیار کروں جس سے جلد