خطبات محمود (جلد 5) — Page 140
خطبات محمود جلد (5) ۱۴۰ جب تیز تپ ہو جائے تو کہے کہ اب دوا کی ضرورت نہیں حالانکہ وہی وقت دوا پینے کا ہے۔تو گو انسان دعا کا ہمیشہ سے محتاج چلا آ رہا ہے مگر اس زمانہ میں بہت ہی زیادہ ہے۔لیکن اسی زمانہ میں بہت سے لوگ ایسے کھڑے ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ دعا ایک لغو اور پرانا خیال ہے صرف زبان کی حرکت سے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے حالانکہ یہی لوگ دیکھتے ہیں کہ زبان ہی کی حرکت انسان کو کنوئیں میں گرا دیتی ہے اور زبان ہی کی حرکت اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتی ہے۔پھر دیکھو گدا گر بھی زبان ہی ہلاتے ہیں۔کیا انہیں زبان کی اس حرکت سے مادی نفع نہیں مل جاتا۔ایک بڑے دنیا دار شخص نے کہا تھا کہ لفظوں سے مادی فائدہ نہیں مل سکتا اس لئے دُعا کرنا ایک لغو امر ہے مگر اس کو یہ خیال نہ آیا کہ ایک محتاج آکر سوال کرتا ہے اس سوال کرنے پر پیسہ دو پیسے آنہ دو آ نے اس کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔کیا اس کو یہ مادی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ضرور ہوا ہے۔پس جب ایک انسان پر گدا گر کے الفاظ کا اثر ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ خود محتاج ہوتا ہے اس کی دستگیری کرتا ہے تو خدا جو کسی کا محتاج نہیں اس کے حضور اگر کوئی عرض کرے تو کیا وجہ ہے کہ وہ دستگیری نہیں کرے گا یہ بہت نادانی اور کم عقلی کی بات ہے اور جولوگ اس طرح کہتے ہیں انہوں نے دعا کو ایک ڈھکوسلہ سمجھ رکھا ہے۔اگر یہ لوگ تدبر سے کام لیتے تو انہیں دعا کی صداقت کے قبول کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔کیونکہ بعض عقائد تو ایسے ہوتے ہیں جن کا نتیجہ عمل کو چاہتا ہے۔مگر دعا ایک ایسی چیز ہے کہ انسان فوراً اس کا اثر دیکھ سکتا ہے اور ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اسکا تجربہ کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو چیلنج دیا تھا کہ اگر کسی میں جرات ہے تو آئے میرے مقابلہ میں دعا کرے اور پھر دیکھ لے کہ کس کی قبول ہوتی ہے۔امیہ ایک نتیجہ تھا اور مشاہدہ تھا جو ہر ایک کھلے طور پر دیکھ سکتا تھا مگر کسی کو اس کی جرات نہ ہو سکی۔تو اس مسئلہ میں کسی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔انسان جب بھی خدا کے حضور جھکے خدا اس کی دعا کو قبول کر لیتا ہے۔اور اس طرح وہ دعا کی صداقت کو دیکھ سکتا ہے اور خود تجربہ کر سکتا ہے۔ا حقیقة الوحی ص ۱۷۶