خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 131

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۱ میں وہ لوگ جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔غرض سب انسانوں کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو سچ بولتا ہے اور دوسرا وہ جو جھوٹ بولنے میں حرج نہیں سمجھتا۔پھر ان میں سے ہر ایک کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو حق پر ہو کر اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے حق کو حق کے لئے قبول نہیں کیا ہوتا بلکہ اپنے اغراض کے لئے قبول کیا ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو ناحق پر ہو کر اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے ناحق کو ناحق سمجھ کر قبول کیا ہوتا ہے پھر سچ بولنے والوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک وہ جو حق کو حق سمجھ کر قبول کرتا ہے۔وہ بھی کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور دوسرا وہ جو ناحق کو حق سمجھ کر اس پر جما ہوتا ہے یہ بھی جھوٹ نہیں بولتا۔وہ گر وہ جو اپنے آپکو حق پر سمجھتا ہے مگر حق کی تائید اس لئے نہیں کرتا کہ وہ حق ہے اور دوسرا گر وہ جو خود تو ناحق پر ہوتا ہے مگر اپنے فریق مخالف کو حق پر سمجھ کر پھر بعض وجوہات سے اسکی مخالفت کرتا ہے ان دونوں گروہوں کے آدمی کثرت سے جھوٹ بولتے ہیں۔یوں تو ہمیشہ ہی ان کا یہی حال ہوتا ہے مگر نبیوں کے مقابلہ میں ان کا جھوٹ اور کذب بڑے زور سے ظاہر ہوتا ہے۔کیونکہ اس وقت ان لوگوں کو اپنی تباہی اور ہلاکت کا پورا پورا یقین ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ اپنے بچاؤ کی ہرممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں اور ان کوششوں میں سے ایک کوشش جھوٹ کا استعمال بھی ہوتا ہے۔آپ لوگوں کو تو معلوم ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں لوگوں نے کیسے کیسے جھوٹ بولے۔مخالفین نے جھوٹ بولنے سے ذرا پرہیز نہ کیا وہ لوگ جو اپنے آپ کو راستبازی کے پھیلانے والے کہتے تھے انہوں نے جھوٹ بولنے میں اول نمبر حاصل کیا۔اور اس طرح ان کی نسبت پتہ لگ گیا کہ گو وہ اسلام کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔مگر اس لئے نہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں ان کی خود غرضی اور نفسانیت کا دخل ہے۔حضرت مسیح موعود پر ان لوگوں نے قسم قسم کے الزامات لگائے۔کہا گیا کہ یہ دہر یہ ہے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ جس قدر اس کا خدا پر بھروسہ اور ایمان ہے اور کسی کو نہیں ہے۔وہ اپنی جان مال اسباب عزیز رشتہ دار خدا کے لئے قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار تھا۔اور دن رات اسے یہی دُھن