خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 111

خطبات محمود جلد (5) 111 نہیں سکتا۔اسی طرح دنیا میں خدا تعالیٰ نے مختلف طبائع اور مختلف مذاق کے انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم پیدا کیا ہے جس طرح ان ہجوم کے موقع پر انسان ایک دوسرے کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور الگ نہیں ہو سکتے اسی طرح دنیا کے ہجوم میں بھی جب کوئی انسان خواہ کمزور اور نا تواں ہی کیوں نہ ہو چلنے والی جماعت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر لیتا ہے تو اس کا قدم بھی آگے ہی آگے پڑتا ہے۔اس طرح پھنسا ہوا انسان کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔بلکہ اپنی طاقت کے ساتھ نہ سہی دوسروں کے سہارے ہی آگے نکل جاتا ہے۔تو ایک علیحدہ رہنے والے انسان میں اور جو جماعت سے وابستہ ہوتا ہے اس میں یہ فرق ہے کہ علیحدہ رہنے والا انسان جس بات کے لئے کوشش کرتا ہے اس کی کوشش اکثر دفعہ ناکام رہتی ہے۔اور بہت دفعہ وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے۔مگر وہ شخص جو جماعت سے وابستہ ہوتا ہے اگر وہ تھک جائے اور بیٹھنا بھی چاہے تو بھی نہیں بیٹھ سکتا۔کیونکہ وہ جماعت کی رو میں اس طرح بہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ اسے آگے ہی آگے لئے جاتی ہے اور بیٹھنے نہیں دیتی۔یہی حال دین میں بھی ہوتا ہے اور یہی دنیا میں۔وہ قومیں جو محنت اور مشقت کی عادی ہوتی ہیں ان میں بڑے سست اور کاہل لوگ بھی ہوتے ہیں مگر وہ اس بات کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں کہ محنت کرنے والوں کے ساتھ خود بھی محنت کریں۔دیکھو یورپ میں تجارت اور مال کی کثرت کی وجہ سے نیز اس لئے کہ اکثر اشیاء دیگر ممالک سے جاتی ہیں۔ہر ایک چیز گراں ہوتی ہے وہاں چونکہ محنت عام لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے اس لئے سُست طبائع کو بھی کرنی پڑتی ہے کیوں؟ اس لئے کہ محنتی لوگوں کی کثرت سے وہاں مال بہت زیادہ ہو گیا ہے اور جب مال زیادہ ہو گیا ہے تو ضرور ہے کہ اشیاء کی گرانی ہو۔اس گرانی کی وجہ سے ایک شست کو بھی اپنی روٹی کمانے کے لئے ہمارے ہندوستان کے محنتیوں سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔وہاں بارہ پندرہ گھنٹے مزدوری کرتے ہیں تو کہیں جا کر پیٹ بھرنے کے لئے روٹی کے پیسے کماتے ہیں اور یہاں چار پانچ گھنٹہ کام کرنے سے روٹی میسر آسکتی ہے وہاں گومزدوری یہاں کی نسبت زیادہ ملتی ہے مگر اشیاء کی گرانی کی وجہ سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے سست بھی محنت کرنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔گویا عام لوگوں کی محنت کرنے کی رو میں وہ آگئے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔وہ لوگ جو دریاؤں کے