خطبات محمود (جلد 4) — Page 78
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آدم کو کہا کہ جاؤ جنت میں جہاں چاہو رہو۔شیطان تمہارا کر ہی کیا سکتا ہے۔تم اس کی طرف متوجہ مت ہو اور جنت میں جہاں چاہو کھاؤ۔ہاں ایک بات یادرکھنا کہ میرے جو شریعت کے احکام ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرنا۔شجرہ کے معنی لوگ گیہوں کا درخت یا لڑائی جھگڑا اور اختلاف کرتے ہیں۔میں اس کے معنی سمجھنے میں بڑی توجہ اور غور کرتا رہا ہوں اور خدا سے دعا کرتا رہا ہوں کہ اے الہی ! اس کے معنی مجھے قرآن سے ہی سمجھا دے۔پس خداوند تعالیٰ نے اس کے معنی قرآن ہی سے سمجھائے ہیں۔قرآن شریف میں دو شجروں کا ذکر آیا (۱) الخمر تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ۳ (۲) مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيئَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيئَةِ نِ جُتُنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ ۴۔ایک نیک نام ہیں وہ نیک شجر ہیں اور بد باتیں بدشجر۔قرآن شریف نے نیک اور بد باتوں کا نام شجر رکھا ہے۔آدم علیہ السلام کو خدا نے فرمایا۔کہ اگر ایسا کرو گے۔یعنی خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔پھر چونکہ شیطان آدم کا دشمن تھا اس لئے با ہم ان میں لڑائی اور جنگ شروع ہوگئی اور جنگ میں غلطیاں بھی ہو جایا کرتی ہیں آدم سے غلطی ہوئی اور فتنہ پڑ گیا یعنی جس آرام و آسائش سے وہ رہتے تھے اس میں نہ رہے جیسا اب ہوا ہے۔پہلا امن کہاں ہے۔فَأَزَلَّهُمَا الشَّیطن ان کو کوئی غلطی لگ گئی۔یہاں ابلیس کا لفظ خدا نے نہیں فرمایا۔ابلیس اور شیطان کے ایک معنی نہیں ہیں۔ابلیس تو وہ ہے جس کے متعلق خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا میرے بندوں پر کوئی تسلط نہیں ہے۔شیطان شطن سے نکلا ہے۔بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ۔رسول کریم صنفی نیا ایام کے بعد خلافت کے منکرین خلیفہ کی بیعت کرنے والوں کے دشمن ہو گئے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو مسلمان قیامت تک متفق نہ ہو سکیں گے ۵ پھر ایسا ہی ہوا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے کبھی جمع نہیں ہوئے اور نہ ہو سکیں گے۔ہمارے مسیح کو بھی الہام ہو ا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ 1 کیسی خطرناک سزا ملی۔عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ پہلے یہودی تھے اور پھر مسلمان ہو گئے۔انہوں نے بائیبل میں نہ معلوم کس طرح یہ پیشگوئی نکالی تھی کہ ایک نبی آئے گا لوگ اگر اس کے خلیفہ کو مار دیں گے تو ہمیشہ ان میں دشمنی اور پھوٹ رہے گی۔