خطبات محمود (جلد 4) — Page 58
خطبات محمود جلد ۴ ۵۸ سال ۱۹۱۴ء کیا ثبوت ہے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ چیزیں جو ہماری خادم ہیں وہ ہماری مخدوم اور ہماری خالق کیسے ہوسکتی ہیں۔تو فر ما یا تم اگر ایسا کرو گے اور اس سے باز نہیں آؤ گے تو یاد رکھو کہ تم کو ایک آگ میں ڈالا جاوے گا اور تمہارے یہ بت پتھر بھی اس آگ میں ڈالے جاویں گے۔اس میں ایک پیشگوئی کی ہے کہ اس دنیا میں ہی ایک ایسی لڑائی ہوگی کہ اس میں تم بھی مارے جاؤ گے اور تمہارے بت بھی ساتھ ہی پیس ڈالے جائیں گے۔یہ اس سوال کا جواب دیا ہے کہ خدا سے الہام کی ہمیں کیا ضرورت ہے۔جو آقا کہ اپنے نوکر کی خبر گیری نہیں کر سکتا اور وقت پر اس کی مدد نہیں کر سکتا وہ آقا کس کام کا ہے اور اسی طرح جو خالق کہ اپنی مخلوق کو ان کی تباہی سے بچانے کیلئے کوئی راہ نہ بتلاوے اور الہام نہ کرے تو وہ خالق کس کام آ سکتا ہے۔اس کے بعد میں ایک اور ضروری امر کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اب طاعون کثرت سے پھیل رہا ہے قادیان کے ارد گرد بھی طاعون آگیا ہے۔قوم لوط پر جب عذاب آیا تو پہلے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی کیا بدلوگوں کی وجہ سے نیکیوں کو بھی ہلاک کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بدوں کی وجہ سے نیکوں کو ہلاک نہیں کیا جاوے گا۔تو انہوں نے عرض کیا کہ الہی! اگر اس بستی میں پچاس آدمی نیک ہوں اور باقی بد، تو کیا یہ بستی نہ بچ سکے گی۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ہاں اگر پچاس آدمی ہوں تو اس بستی کو بچا لیا جاوے گا۔پھر ابراہیم نے عرض کیا کہ اگر پانچ آدمی کم ہوں اور پینتالیس آدمی ہی ہوں تو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں اگر پینتالیس ہی نیک آدمی ہوں تو ان کو بچالیا جاوے گا۔تو پھر حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اگر پانچ آدمی اور کم ہوں اور صرف چالیس آدمی ہی نیک ہوں تو کیا ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چالیس نیک آدمیوں کی خاطر بھی اس بستی کو بچالیا جاوے گا۔پھر حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ مولی ! اگر پانچ آدمی اور کم کہوں اور صرف پینتیس ہی نیک ہوں تو کیا پھر یہ بستی نہ بچائی جاوے گی۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ہاں اگر پینتیس آدمی بھی ہوں تو یہ لوگ بچ جائیں گے۔تو پھر حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ مولی ! اگر پانچ اور کم ہوں اور صرف تیس نیک آدمی ہی ہوں تو کیا اس کو تباہ کر دیا جاوے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں اگر تیس آدمی ہی ہے ہوں گے تو یہ ہلاک نہ ہوں گے۔تو پھر حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ اگر دس آدمی اور نہ ہوں اور صرف ہیں آدمی