خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 545

خطبات محمود جلد ۴ ۵۴۵ سال ۱۹۱۵ کیلئے جمع ہوتے ہیں اور بندوں ہی کی خدمت کرنا اپنا مقصد قرار دیتے ہیں لیکن ہم خدا کیلئے جمع ہوتے ہیں اور خدا ہی کی عبادت کرنا اپنا مقصد رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں لیکن ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول فرماتے تھے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ آؤ پیری مریدی کا سلسلہ چلائیں۔وہ ایک جگہ پیر بن کر بیٹھ گیا اور اس کے ساتھی لوگوں کو بلا بلا کر لاتے۔اس نے طرح اسے اچھی آمدنی شروع ہوگئی لیکن ایک دن اسے خود ہی شرم آئی کہ میں نے خدا کا جھوٹا نام لے کر اس نے قدر کامیابی حاصل کر لی ہے تو اگر سچے طور پر نام لیتا تو کس قدر کامیابی ہوتی۔یہ خیال کر کے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا گیا لوگ اسے پکڑ پکڑ لائیں لیکن وہ بھاگتا پھرے تو جب خدا تعالیٰ کا جھوٹے طور پر نام لینے والے بھی کبھی کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر بچے کیوں نہ کامیاب ہوں۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوئے چار ہزار سال گزر گئے ہیں لیکن آج بھی آپ کا اسی طرح نام لوگوں کے دلوں پر نقش ہے جیسا کہ آپ کی زندگی کے وقت تھا مگر اس وقت کا کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نام بھی جانتا ہو۔غرض آپ لوگوں نے دیکھا کہ ایک خدا کے عبد کے مقرر کردہ اجتماع کیلئے کس کس طرح پروانہ وار لوگ آئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہو۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے ہمیں سیدھا راستہ دکھا تا کہ ہم تجھے تک پہنچ سکیں۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا اور وہ تیرے مقرب بن گئے۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ A اور ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے شامت اعمال سے سیدھا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستہ پر جائیں یا آپ ہی ہمیں چھوڑ دیں۔غرض جلسہ کے ایام ہمارے لئے بڑے سبق کے دن ہیں۔مبارک ہے وہ جس نے سبق حاصل کیا۔اور افسوس ہے اس پر جس نے کچھ حاصل نہ کیا۔خدا تعالیٰ ہم پر اور ہمارے سب بھائیوں پر فضل کرے اور دوسرے لوگوں کی آنکھیں کھولے تا کہ ان عظیم الشان نشانات کو دیکھ سکیں اور ہمیں تکبر اور خود پسندی سے بچائے۔اور اس بات کی سمجھ دے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے خدا ہی کی توفیق سے کرتا ہے اور خود کچھ نہیں کر سکتا۔الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۱۶ء) ل البقرة : ٢ البقرة : ٢٦١