خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 489

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۹ سال ۱۹۱۵ء ہے۔جن قوموں نے یہ سمجھا ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی چیزیں بھی لغو اور فضول ہوتی ہیں انہوں نے کبھی ترقی نہیں کی۔ترقی ہمیشہ ان ہی قوموں نے کی ہے جنہوں نے یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی چیز بھی لغو نہیں۔پس جس طرح خدا کی پیدا کی ہوئی ہر ایک چیز خواہ بظاہر کیسی ہی ردی اور فضول کیوں نہ معلوم دے، درحقیقت بنی نوع انسان کیلئے فائدہ بخش اور نفع رساں ہے اور جس طرح خدا کی مخلوق کا کوئی حصہ لغو اور ردی نہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام کا حال ہے۔اس کا نہ کوئی حکم لغو ہے اور نہ اس کا کوئی لفظ اور حرکت بلکہ ہر ایک اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت رکھتا ہے۔جرمن کے ایک ڈاکٹر نے ہلکے کتے کے کاٹے کا علاج کرنے کے متعلق تحقیقات کی ہے وہ لکھتا ہے کہ اس تحقیقات کی طرف مجھے اس طرح توجہ ہوئی کہ میں نے مسلمانوں کی بعض کتابوں میں لکھا ہوا دیکھا کہ انہیں ان کے رسول ( صالی ایم ) کا حکم ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے پہلے مٹی سے مانجو اور پھر پانی سے دھوؤ ہے۔میں نے سوچا ایک اتنا بڑا آدمی جس کو لاکھوں اور کروڑوں انسان مانتے ہیں اس کا یہ کہنا لغو نہیں ہوسکتا بلکہ ضرور اپنے اندر کوئی حکمت رکھتا ہے ( معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈاکٹر میں ان مسلمانوں سے حسن ظنی کا مادہ زیادہ تھا جو خدا کی بعض چیزوں اور رسول اللہ کے بعض احکام کو لغو سمجھتے ہیں ) میں نے اس بات کیلئے کوشش کرنی شروع کی کہ معلوم کروں کہ آیا تمام ملکوں کی مٹیوں میں کوئی ایسا جزو بھی ہے جو سب میں یکساں ہو تو معلوم ہوا کہ ایک جزو ایسا ہے جو سب ملکوں کی میٹیوں میں مشترک پایا جاتا ہے۔اس جزو کا میں نے جب ہلکے گتے کے زہر پر استعمال کیا تو مفید ثابت ہوا۔اسی طرح اس ڈاکٹر نے آنحضرت سالی ایم کی اور احادیث سے بھی فائدہ اٹھایا ہے یہ تو رسول کریم کے اقوال کا حال ہے۔اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی بات لغو اور زائد ہے نہیں ہوسکتی۔یہاں خدا تعالیٰ یہ دعا سکھاتا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالّتين۔ہمیں سیدھا راستہ دکھائیے۔اور ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام کیا نہ کہ ان کا جن پر تو نے غضب کیا یا جو گمراہ ہو گئے۔غیرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کے الفاظ کیوں رکھے جو بظاہر زائد معلوم ہوتے ہیں ان کے کھنے میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ یہ الفاظ اس طرف متوجہ کرنے کیلئے رکھے ہیں کہ جب کوئی انسان ترقی کرنے لگتا ہے خواہ وہ ترقی روحانی ہو یا جسمانی، دینی ہو یا دنیوی تو اس کے رستہ میں ایسی