خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 486

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۶ (۸۸) خدا تعالیٰ کے کلام کا ہر لفظ اپنے اندر حکمت رکھتا ہے (فرموده ۲۹ - اکتوبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کے بعد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سے بھی فرما دیا ہے لیکن ایسا کیوں کیا گیا۔کیا صرف اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہنا کافی نہ تھا؟ پس جبکہ صرف یہی رکھا جاتا تب بھی یہ مفہوم ادا ہو سکتا تھا کہ جو انسان خدا سے یہ دعا مانگے اسے سیدھا راستہ دکھا یا جائے اور گمراہی اور بد افعال سے بچایا جائے یعنی نیکیوں کی توفیق دی جائے اور بدیوں سے بچایا جائے۔کیونکہ جب مومن ہر روز یہی دعا مانگتا ہے کہ مجھے سیدھا راستہ دکھایا جائے اور وہ رستہ بتایا جائے جو مُنْعَمُ عَلَيْهِ لوگوں کو بتایا گیا تھا تو اس کے اس کہنے سے ہی تمام بدیوں اور ہر قسم کے گندوں اور گناہوں کے رستہ کی ساتھ ہی نفی ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب کوئی نیک شخص بد ہونے کے بعد ہی بدوں میں شامل ہو جاتا اور سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے اور نیک اسی وقت تک نیک رہتا ہے جب تک کہ یہ سیدھے راستہ پر ہوتا ہے اور سیدھے راستہ کیلئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھا دی ہے تو پھر غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی کیا ضرورت تھی۔پس بظاہر اتنا ہی کہنا کافی معلوم ہوتا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور اس پر دُعا ختم ہو جاتی۔