خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 473

خطبات محمود جلد ۴ ۴۷۳ سال ۱۹۱۵ ء پیدا ہو رہے ہیں جو اگلے راستبازوں کے مقابل میں ان کے منکرین کیا کرتے تھے۔ایک طالب حق کیلئے سوچنے کی بات ہے کہ کیوں اس فریق کے دل میں جو چند روز ہوئے ہم ہی میں سے تھا ایسے اعتراض پیدا ہوتے ہیں جو حضرت اقدس کے مقابل میں ثناء اللہ اور غلام دستگیر اور چراغ الدین کو سوجھتے تھے۔کیا یہ بھاری ثبوت نہیں اس کا کہ ان کے دل ان کے دلوں کے ساتھ مشابہ ہو گئے۔مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ خدا سے پوچھ لینا تھا اور یہ موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔کیا خدائے تعالیٰ میرا خادم ہے کہ جو میں چاہتا اُس سے پوچھ لیتا وہ تو میرا خالق و مالک ہے۔اس نے اپنے فضل سے جو مجھے دکھا یا دیکھ لیا۔میں تو کیا ہوں میں کہتا ہوں خاتم النبین، سید المرسلین ہوتے تو وہ بھی خود بڑھ کر نہ پوچھ سکتے۔جس دربار عالی شان میں تمام انبیاء کے سردار کی ہمت نہ پڑے اس میں میں کیا جرات کر سکتا ہوں۔قرآن شریف میں حکم ہوتا ہے کہ خبردار! وحی نازل ہو چکنے سے پہلے اس کیلئے کوئی جلدی نہ کر۔وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْطَى إِلَيْكَ وَحْيُه : لَا تُحَرِّكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه ، پس محمود بچارے کی کیا طاقت تھی کہ دم بھی مار سکے۔اس کو تو ہوش ہی نہ تھاوہ ہے کیا۔وہ تو بے جان کی مثال تھا اس بچارے نے کیا پوچھنا تھا۔مولیٰ نے جو بتایا وہ سن لیا جو نہ بتایا اس کی مرضی پھر اس اعتراض کا کیا مطلب۔لیکن خیر اس سے یہ تو سب کو معلوم ہو گیا کہ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔دوسری بات یہ لکھی۔دو آدمیوں کو آپ نے کہہ دیا تھا لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الكَاذِبِينَ۔وہ وه دونوں تو تباہ ہو رہے ہیں مگر خدا تو سارے دشمنان حق پر لَعْنَتُ الله عَلَى الْكَاذِبِین کہتا ہے وہ تو تباہ نہیں ہوتے اور معلوم نہیں تبا ہی آپ کے نزدیک کیا معنے رکھتی ہے۔۔۔اگر مال یا جان کا نقصان آپ کی مراد ہے تو اللہ تعالیٰ تو مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ ہے وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ یہ بھی وہی بات ہے جو غیر احمدیوں کے منہ سے بار ہاسن چکے ہیں جب کسی کی نسبت حضرت اقدس نے لکھا کہ وہ طاعون سے مرے گا تو اس نے جھٹ شائع کیا کہ طاعون سے مرنا تو شہادت ہے پس یہ تباہی کیا ہوئی۔اور جب یہ کہا گیا کہ ہیضہ سے مرے گا تو غیر احمد یوں