خطبات محمود (جلد 4) — Page 462
خطبات محمود جلد ۴ ۴۶۲ سال ۱۹۱۵ء خدا تعالی پر ہی نظر رکھی ہے۔پس ہمیں بھی چاہئیے کہ اسی عمل کی اتباع کریں۔پس اس سوال کا جواب کہ مولوی صاحب کی اس کارروائی کے متعلق کیا کیا جائے؟ ایک تو یہ ہے کہ عدالت تک معاملہ پہنچایا جائے۔دوسرا یہ کہ خدا کے سپر د کیا جائے۔ان دونوں پہلوؤں کے متعلق جماعت کو چاہیے کہ غور کرے اور مجھے مشورہ دے کہ آیا خاموشی اختیار کی جائے یا عدالت میں یہ معاملہ لے جایا جائے۔ہم یہ تو جانتے ہیں کہ حرام چیز کسی کو معضم نہیں ہوا کرتی اور کسی نہ کسی رستہ ضرور باہر آ جاتی ہے چونکہ انہوں نے خیانت سے کام لیا ہے اس لئے وہ فائدہ تو کبھی نہیں اٹھا سکتے۔ہم نے کوشش کر دی ہے۔بار بار کہلا بھیجا ہے حتی کہ ایک وفد خاص بھیجا لیکن انہوں نے ترجمہ نہیں دیا بلکہ اشارہ یہ بھی کہا ہے کہ ترجمہ ہمارا ہی ہے اس معاملہ کے متعلق جو میری رائے ہے وہ بھی میں بتا دیتا ہوں۔میری اپنی رائے میں زیادہ مفید اور مناسب یہ بات ہے کہ ان کو چھوڑ ہی دیا جائے اور اللہ کے حوالہ کر دیا جائے۔کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہوگا وہ انسانوں کے فیصلہ سے زیادہ صاف ہوگا کیونکہ وہ خالق و مالک ہے اور انسانوں سے زیادہ زبر دست اور طاقتور ہے۔میرے خیال میں ان کا ترجمہ لے جانا ہمارے لئے بڑی بھاری فتح ہے۔انسان جوش اور عداوت میں مجرم کر تو لیتا ہے لیکن بعد میں خود ہی شرمندہ ہوتا ہے یہ ہمیشہ ان کے گلے میں پھانسی کی طرح لٹکتا رہے گا۔ہماری اور ان کی بخشیں تو ہوتی ہی رہیں گی۔پس ہمیشہ ان کو اس سوال کے آگے نادم ہونا پڑے گا کہ ان کے فرقہ کا بانی سلسلہ احمدیہ کے روپیہ کو کس طرح قانون کا غذر کر کے خرد برد کر گیا۔یہ چونکہ قومی اور جماعت کی خیانت ہے شخصی نہیں اس لئے جماعت کے اختلاف میں اسے ہم پیش کر سکتے ہیں۔کیونکہ قومی جرائم کا پیش کرنا بر خلاف ذاتی جرائم اچھا اور چھپا نا جرم ہے اس لئے یہ ان کے نام پر ہمیشہ کیلئے دھبہ رہے گا اور اگر ہم لے لیں گے تو اور ہمیں مل بھی جائے گا۔تو اس خوبی سے ہم انہیں ملزم قرار نہیں دے سکیں گے۔پھر یہ کہ جس ترجمہ نے ترجمہ کرنے والے کو کچھ فائدہ نہیں دیا وہ ہمیں کیا دے سکتا ہے۔وہ شخص جو چھ سال قرآن پر غور کر کے یہ معنی کرتا ہے کہ قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ اللہ منوا کر چھوڑ دو۔اس کا کیا ہوا ترجمہ ہمارے لئے کیا مفید ہوسکتا ہے؟ اگر ہم مقدمہ کر کے اس ترجمہ کو لے لیں گے تو ہزار دو ہزار روپیہ جو خرچ ہوگا وہ بھی ضائع