خطبات محمود (جلد 4) — Page 423
خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۳ سال ۱۹۱۵ نہیں ہوسکتا۔دیکھونبی کریم سنا یا کہ تم بھی کہتے ہیں کہ تم میں سے دو آدمی میرے پاس ایک فیصلہ لاتے ہیں لیکن ایک انسان زبان کی چالاکی سے اپنے حق میں فیصلہ کر الیتا ہے حالانکہ وہ حقدار نہیں ہوتا۔پس اس نے طرح پر ایا حق لینے والا آگ کا ٹکڑا لیتا ہے سے۔جب نبی کریم صلی سیستم فرماتے ہیں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں تو دوسرا کون ہے جو یہ کہے کہ میں غلطی سے پاک ہوں۔اگر ایک شخص علیحدہ نماز پڑھے اور یہ کہے کہ میں امام کے پیچھے اس لئے نماز نہیں پڑھتا کہ وہ غلطی کرتا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اکیلا نماز پڑھے تو کیا وہ غلطی نہیں کر سکتا؟ جس طرح امام بتقاضائے بشریت غلطی کر سکتا ہے اسی طرح پر وہ شخص بھی جوا کیلا نماز پڑھتا ہے غلطی سے نہیں بچ سکتا۔پس جماعت جماعت ہے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے والا اور اکیلا پڑھنے والا دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔جو خلیفہ کی مخالفت کرتے ہیں ان کو واضح رہے کہ حضرت عثمان کے وقت میں جب لوگ مخالفت کیلئے اُٹھے تو آپ نے فرمایا تم خوب یا درکھو تم یہ فتنہ مت پھیلاؤ اس فتنہ سے تم میں کبھی صلح نہیں ہوگی تم میں کبھی اتفاق نہیں ہوگا۔چنانچہ آج تک مسلمانوں میں صلح نہیں ہوئی۔عبد اللہ بن سلام کا یہ قول سن کر کہ آخری وقت میں فتنہ ہوگا ابن عباس نے کہا کہ تم جماعت کو اختیار کرنا۔لوگوں نے کہا اگر چہ قاتل ہی ہو۔انہوں نے کہا ہاں اگر چہ قاتل ہی ہو۔(ایسے ہی تین بار کہا ) لوگ موازنہ کر کے دیکھ لیں کہ کس نے طرف زیادہ فوائد ہیں۔تم کہتے ہو بیعت ضروری نہیں لیکن ہم کہتے ہیں اتفاق تو ضروری ہے۔پس کیوں اس طریق کو اختیار کرتے ہو جو اتفاق سے دور کرنے والا ہے۔میں کل ہی ذکر کر رہا تھا لو كَانَ الْإِيْمَانُ معلقا باللا لا له رجال من ابناء فارس۔اس میں دجال کا لفظ آیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے کہ اگر ایمان معلق بالثریا ہوگا تو ابنائے فارس میں سے بعض رِجال ایمان کو لائیں گے۔تو اب ضروری ہے کہ ابناء فارس یعنی حضرت کے خاندان سے ہوں اور اگر کسی دوسرے خاندان سے ہوں تو وہ ابنائے فارس سے نہیں کہلا سکتے۔اور پھر یہ پیشگوئی غلط ہو جاتی ہے۔رَجُلٌ مِن فارس نے بتایا کہ اصل بانی سلسلہ ایک ہی ہے مگر ر جال نے بتادیا کہ اس کے مُمد و معاون اور بھی ابناء فارس سے ہوں گے۔غرض میرا کام فساد کو بڑھانا نہیں۔کسی انسان کے بنانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔چونکہ اس وقت دنیا میں شرک حد سے بڑھ چکا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایک کمزور انسان کو