خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 422

خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۲ سال ۱۹۱۵ء کہا کہ میاں صاحب! آپ ایثار کریں۔میں نے کہا کہ کیا خلافت کا ہونا گناہ ہے تو وہ کہنے لگے نہیں جائز ہے۔میں نے کہا کہ میرے نزدیک ضروری اور واجب ہے۔اب جب وہ دونوں گروہ ایک بات پر قائم ہیں ایک کے نزدیک فعل اور عدم فعل برابر ہے اور دوسرے کے نزدیک واجب ، تو اس فریق کو جو جواز کا قائل ہے چاہئیے کہ وہ اپنی ضد کو چھوڑ دے۔خدا تعالیٰ ضرور اس سے پوچھے گا کہ جب ایک فعل کا کرنا اور نہ کرنا تمہارے نزدیک برابر تھا تو تم نے کیوں اپنی ضد کو نہ چھوڑا۔پس اس فریق کو خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔پھر میں بتاتا ہوں کہ اسلام نے جتنی اس زمانہ میں ترقی کی ہے جبکہ اس کے ماننے والے ایک خلیفہ کے ماتحت تھے، اتنی پھر کسی زمانے میں نہیں کی۔حضرت عثمان وعلی کے زمانے کے بعد کوئی بتا سکتا ہے کہ پھر بنی ہے عباس کے زمانہ میں بھی ترقی ہوئی۔جس وقت خلافتیں پراگندہ ہو گئیں اُسی وقت سے ترقی رک گئی جو لوگ خلیفہ کے متعلق مامور غیر مامور کی بحث شروع کر دیتے ہیں اپنے گھر ہی میں غور کریں کہ کیا ایک شخص کے بغیر گھر کا انتظام قائم رہ سکتا ہے؟ یورپ کے کسی مصنف نے ایک ناول لکھا ہے جس میں اس نے ان لوگوں کا خوب خاکہ اُڑایا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ دولڑکیوں نے اپنے باپ کے اس اصول کو حجت قرار دے کر کہ مرد عورتوں کے حقوق وفرائض یکساں ہیں اور گھر کا ایک واجب الاطاعت سر براہ ہونے کی ضرورت نہیں اپنے اپنے دل پسند مشاغل میں مصروف رہ کر اور انتظام خانہ داری میں اپنی خود سری سے ابتری ڈال کر باپ کو ایسا تنگ کیا کہ اسی کو معافی مانگنی پڑی۔الغرض ایک مرکز اور ایک امام کے بغیر کبھی کام نہیں ہو سکتا۔جنگ میں بھی ایک آفیسر کے ماتحت فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی ذرا نافرمانی کرے تو فورا گولی سے اڑا دیا جاتا ہے۔بعض وقت آفیسر غلطی سے حکم دے دیتے ہیں تو بھی فوج کو ماننا پڑتا ہے۔اسلامی شریعت نے مسلمانوں کو بتایا کہ اگر امام بھول جائے اور بجائے دو رکعت کے چار پڑھ لے تو تم بھی اس کے ساتھ چار ہی رکعت ادا کرو۔اگر وہ چار کی بجائے پانچ پڑھ لے تو تم بھی اس کی اتباع کرو حالانکہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لاتا۔پھر امام کا اتنا ادب ملحوظ رکھا کہ اس کو غلطی پر ٹوکنے کی بجائے سبحان اللہ کا کلمہ سکھایا جس کے معنے یہ کہ سہو و خطا سے پاک تو اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہو سکتی ہے۔پھر یہ بات کہ غیر مامور خلیفہ غلطی کر سکتا ہے لہذا اس کی یا اس کا حکم ماننے کی ضرورت ہی نہیں ، کیسا خطرناک خیال ہے۔درحقیقت غلطی کرنے سے پاک کوئی انسان