خطبات محمود (جلد 4) — Page 403
خطبات محمود جلد ۴ ۴۰۳ (۷۸) رسول کی اطاعت در اصل خدا تعالیٰ کی اطاعت ہے (فرموده ۳۰۔جولائی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِيمًا فَلَا وَرَبَّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِم حَرَجاتِها قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تسليمات اس کے بعد فرمایا:۔بدی اور گناہ کے مرتکب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو ایسے ہوتے ہیں جو بدی کو بدی سمجھتے ہی نہیں اور ایک وہ جماعت ہوتی ہے جو بدی کو بدی سمجھ کر اس کی مرتکب ہوتی ہے۔بدی کو بدی نہ سمجھنے والے لوگ تو غیر مذاہب والے ہیں کیونکہ بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے سچے اور آسمانی مذہب میں گناہ اور بدیاں ہیں لیکن ان کے مذہب میں جائز اور روا ہیں۔مثلاً بعض مسیحی صاحبان شراب پیتے ہیں اور یہ ان کے مذہب میں جائز ہے حتی کہ ان کی بعض عبادتوں میں اس کے پینے کا حکم ہے اس لئے یہ جب شراب کا استعمال کریں گے تو برا سمجھ کر نہیں کریں گے بلکہ جائز اور مذہبی حکم سمجھ کر کریں گے لیکن اگر کوئی مسلمان اس کا استعمال کرے گا تو بدی سمجھ کر کرے گا اسی طرح اور بعض ایسے گناہ ہیں جو ہر مذہب میں گناہ ہیں مگر بعض کو ان کا علم نہیں ہوتا ایسی حالت میں وہ اس کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔