خطبات محمود (جلد 4) — Page 388
خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۸ سال ۱۹۱۵ء کہ یہ جان آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے 66 وہ بات یاد آ گئی۔خدا کے پیاروں کو نہ کوئی قتل کر سکتا ہے نہ جلا سکتا ہے نہ پہاڑوں سے گرا کر مارسکتا ہے اور نہ دنیا کی کوئی اور چیز انہیں دکھ پہنچا سکتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ خدا ان کا ہو جاتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود کو یہ الہام ہوا کہ :۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۴؎ حضرت مسیح موعود نے طاعون کو دیکھا کہ ایک ہاتھی ہے جو ادھر اُدھر سونڈ مارتا پھرتا ہے لیکن آپ کے سامنے آکر اس نے عاجزی سے سونڈ کو رکھ دیا ہے۔پھر آپ کو یہ الہام ہوا۔خدا تعالیٰ کا یہ سلوک کسی ایک ہی شخص سے نہیں ہوتا بلکہ بہت سے ایسے لوگ گزرے ہیں جن کو یہ فضیلت حاصل ہوئی ہے۔اسلام ان سب کی تی عزت کرتا ہے اور یہ فضیلت صرف اسی مذہب کو حاصل ہے کہ ہر ایک نبی کی عزت کرتا ہے خواہ وہ کسی ملک اور کسی زمانہ میں اور کسی قوم میں پید اہوا۔ایران کے بادشاہ گشتاسپ کے وزیر جاماسپ کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہے۔اس میں لکھا ہے کہ ایران میں تین نبی پیدا ہوں گے۔ایک کا نام میسیا ز ر بھی ہوگا (میسیا اور مسیحا ایک ہی ہے ) اس کی اور شیطان کی آخری جنگ ہوگی اور وہ شیطان کو قتل کرے گا لیکن تلوار سے نہیں بلکہ دعاؤں سے۔یہی وہ پیشگوئی ہے جو حضرت مسیح کے کلام سے اور پھر آنحضرت صلی یا اسلام کے کلام سے حضرت مسیح موعود کے متعلق ثابت ہوتی ہے۔اب ایسے عظیم الشان انسان کا کوئی کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا الہام کہ میں کرشن، اوتار، رامچندر، آدم ، موسی ، ابراہیم ہوں۔ان سب کو لوگوں نے دکھ دینے کیلئے بڑے زور مارے مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اس لئے کہ ان کا حامی خدا تعالیٰ ہو گیا تھا۔پس خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے سے بہت بڑا انعام شرف مکالمہ کا حاصل ہوتا ہے اور جن کو یہ نعمت حاصل ہو جائے انہیں دنیا کی کوئی چیز خوف میں نہیں ڈال سکتی۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے کسی واقعہ سے گھبراتے نہیں۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ دوست گھبرا جاتے لیکن آپ کوئی پرواہ نہ کرتے۔مولوی سرور شاہ صاحب گورداسپور کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ مجسٹریٹ نے کہا کہ میں مرزا کو ہتھکڑی لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔حضرت صاحب نے سنا تو لیٹے ہوئے