خطبات محمود (جلد 4) — Page 29
خطبات محمود جلد ۴ ۲۹ (۹) سال ۱۹۱۴ء ناقدری کرنے پر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں (فرموده ۶ - فروری ۱۹۱۴ء بمقام قادیان) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۃ بقرہ رکوع اول کی آخری دونی آیتیں پڑھ کر فرمایا: دنیا میں دو ہی قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک تو وہ لوگ ہیں کہ وہ کسی چیز کا انکار کریں تو اپنی کم علمی کی وجہ سے کرتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوبی کوئی نیکی اچھی طرح سے سمجھا دی جاوے تو وہ مان لیتے ہیں۔دوسرا گر وہ وہ لوگ ہیں جو کہ کسی بات کا انکار اپنی کم علمی کے سبب سے نہیں کرتے بلکہ وہ ایک بغض اور ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے سبب سے انکار کرتے ہیں۔جولوگ کہ کم علمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ان کو سمجھانا بالکل آسان ہوتا ہے اور وہ ہدایت کے بالکل قریب ہوتے ہیں اور ان کیلئے ہدایت پا جانا بالکل آسان ہوتا ہے۔اور دوسرا فریق جو تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ان کیلئے سمجھا نا کبھی با برکت نہیں ہوسکتا اور وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ہر ایک نبی کے وقت میں ایسے گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کیلئے بھی گمراہی کا موجب بنتے ہیں۔حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے یہ بات شروع ہے۔آدم کا اور ابلیس کا مقابلہ ہوا۔ابلیس نے کہا انا خَیرٌ مِّنْهُ اے میں آدم سے بہتر اور اس سے اعلیٰ ہوں اور میرا درجہ اس سے بلند ہے۔پھر اس کو خدا کی عظمت و جبروت سے ڈرایا گیا۔مگر اس نے قبول نہ کیا اور انکار ہی کرتا رہا۔آدم بھی اکیلا تھا اور اس کا ابلیس بھی اکیلا ہی تھا۔