خطبات محمود (جلد 4) — Page 27
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷ سال ۱۹۱۴ء سے خرچ کرتا رہتا ہے۔جس شخص کے مخلوق سے تعلقات عمدہ نہیں اس کے تعلقات اپنے خالق سے بھی اچھے نہیں رہ سکتے۔اس لئے قرآن مجید نے دونوں طرفوں کو لیا ہے۔جو بڑی لمبی لمبی نمازیں پڑھتا ہے اور خدا کی مخلوق سے بد معاملگی کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنے حاکم کے سامنے نہایت موڈب کھڑا ہومگر جب وہ اپنے حاکم کے سامنے سے ہے تو اپنے ماتحتوں پر ظلم کرنا شروع کر دے۔یہ شرفاء کا کام نہیں۔خدا نے اپنی مخلوق پر شفقت کرنے کو بھی عبادت فرمایا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نگا تھا تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا، بھوکا تھا مجھے کھانا نہ کھلایا ، پیاسا تھا مجھے پانی نہیں پلایا، بیمار تھا میری بیمار پرسی نہیں کی۔وہ بندے عرض کریں گے کہ یہ آپ کی شان کہاں ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری مخلوق میں سے چھوٹے سے چھوٹے بیمار یا بھوکے پیاسے کے ساتھ ہمدردی کرنا گویا میرے ساتھ ہمدردی کرنا ہے اے خدا نے اپنی بخشی ہوئی نعمتوں کی کوئی حد بندی نہیں کی جو کچھ بھی کسی کو خدا نے دیا ہے چاہیے کہ اس میں سے کچھ اس دینے والے کے نام پر خرچ کرے۔اگر علم دیا ہے تو علم میں سے ، مال دیا ہے تو مال میں سے۔اس صفت سے متصف انسان دوسروں کے حقوق تلف نہیں کرتا کیونکہ جو اپنے پاس سے بھی کچھ دینے کی عادت رکھتا ہو وہ کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی کے مال پر بیجا تصرف کرے۔غرض منتقی کے خالق اور مخلوق دونوں سے تعلقات نہایت عمدہ ہوتے ہیں وہ اپنے اندر فرمانبرداری کی روح رکھتا ہے۔نہ صرف قرآن مجید پر ہی ایمان رکھتا ہے بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آئیں ان پر بھی ایمان لاتا ہے اور قرآن مجید کے بعد جو وحی نازل ہو اس پر بھی ایمان لانے کو تیار ہے۔اس کا اپنا کوئی نفس باقی نہیں رہتا وہ ہر حالت میں خدا کی رضا جوئی کا آرزو مند رہتا ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور جو ہدایت پر چلیں گے وہی کامیاب اور منصور ہوں گے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف ہاتھ میں ہاتھ دینے سے نجات ہو جاتی ہے مگر ایسا ہر گز نہیں عمل کی ضرورت ہے جو خدا کے فضلوں کا جاذب ہے۔اللہ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ اس نے ہماری ہدایت کیلئے ایسی روشن کتاب عطا فرمائی اس احسان کے شکریہ میں تو اور بھی اس کا فرمانبردار بنا چاہیئے۔نہ یہ کہ الٹا خدایا اس کے فرستادہ پر احسان رکھیں کہ ہم ایمان لائے۔اگر کوئی رستہ سے بھٹک گیا ہو اور دوسرا اسے سیدھے راستہ پر چلا دے تو اب یہ اس رستہ پر چل کر راہنما پر احسان