خطبات محمود (جلد 4) — Page 26
خطبات محمود جلد ۴ (v) متقی کون ہے فرموده ۲۳۔جنوری۔بمقام قادیان) سال ۱۹۱۴ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۃ بقرہ کے پہلے رکوع کی تلاوت کی۔اور پھر فرمایا:۔یہ سب سے پہلا رکوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول اور رسول اللہ صلی ایتم کی بعثت کی غرض بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کتاب انسان کو متقی بنا کر اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ تک پہنچاتی ہے اور ان دینی و دنیوی ترقیات کی راہ دکھاتی ہے جن پر ایک انسان پہنچ سکتا ہے۔چونکہ ہر قوم کے نقطہ خیال سے متقی کی جدا تعریف ہے، ہندوؤں کے نزدیک متقی اور ہے ، یہود کے نزدیک اور عیسائیوں کے نزدیک اور۔اس لئے اب بتانا ہے کہ ہمارے نزدیک متقی کون ہے۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جن کا ظاہر و باطن یکساں ہے جو خیالات ان کے جی میں ہیں اس کے مطابق ان کا عمل ہے۔دوسرے وہ جن کا اندر کچھ ہے اور باہر کچھ، ظاہر کچھ باطن کچھ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ متقی وہ ہے کہ ہم خواہ کتنے ہی غیب میں ہوں ہم پر اس کا ایمان کامل رہتا ہے اور پھر اور جو چیزیں غیب میں ہیں ان پر ایمان لاتا ہے۔اس کے دل میں کھوٹ نہیں ہوتا۔پھر وہ نمازوں کو قائم کرتا ہے۔یہ تو اپنے خالق سے تعلقات کی نسبت فرمایا۔دوسرا تعلق مخلوق سے ہے۔سو اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا ہے وہ اس میں