خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 340

خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۰ سال ۱۹۱۵ء نہیں ہے اور نہ وہ کسی پر ظلم کرتا ہے۔پس اگر وہ واقعہ میں اخلاص رکھتا ہوتا تو ضرور تھا کہ اللہ اس کوا۔مامور کے پہچاننے کی توفیق دیتا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فاسق کا لفظ رکھا ہے تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ یہ تو کافروں کے متعلق آیا ہے اور كَفَرُوا باللہ کے یہ معنے ہیں کہ خدا کی باتوں کو نہ ماننا۔پس ایسے لوگ جو گو بظاہر اسلام رکھتے مگر دراصل اللہ اور رسول کے حکم نہیں مانتے تھے اور اسی حالت میں مر گئے ان کا جنازہ جائز نہیں ہے۔پس حضرت مسیح موعود کا عمل اور یہ ڈائری اور قرآن شریف کے اس حکم کے ہوتے ہوئے ہم کبھی یہ نہیں مان سکتے کہ غیر احمدی کا جنازہ جائز ہے۔حق یہی ہے کہ کوئی اسے قبول کرے یا نہ کرے میں تو ایک منٹ کیلئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی انسان حق اور صداقت کی تلاش کرتا ہو اور پھر خدا اسے ہدایت نہ دے۔خدا تعالیٰ ضرور ہدایت دے دیتا ہے بشرطیکہ کسی میں اخلاص اور صدق پایا جاتا ہو۔یہاں ایک شخص تھا جو بہت زیادہ شراب پیا کرتا تھا حتی کہ شراب کی وجہ سے ہی سخت بیمار ہو گیا تھا۔پھر بہت بڑے لوگوں سے اس کا تعلق اور صحبت تھی اس کی نسبت کسی کو وہم بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کو ہدایت ہوگی۔مگر ایک دن اسے خواب آئی کہ ساری دنیا پر اندھیرا ہی اندھیرا ہے اور صرف حضرت مسیح موعود کی چار پائی کے نیچے نور ہے اور میں اس کے نیچے گھس گیا ہوں۔اس کے بعد اس نے آکر آپ کی بیعت کر لی۔بیعت کے چند ہی دن کے بعد مر گیا۔پس نیک اور مخلص آدمی کتنا ہی بد صحبت اور گند میں ڈوب گیا ہو اور غلط فہمی سے بڑی سخت مخالفت بھی کرتا ہولیکن خدا تعالیٰ ضرور ہی اس کو ہدایت دے دیتا ہے۔اور اگر اللہ کسی کو ہدایت نہیں دیتا تو یقینا سمجھنا چاہیئے کہ وہ جَاهَدُوا فِینا میں شامل نہیں ہے اس لئے اس کا جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسی جگہ مرجائے جہاں ہماری تبلیغ نہیں پہنچی اس کے جنازہ کے متعلق یہ ہے کہ ایسی جگہ ہم جنازہ پڑھنے کیلئے کہاں موجود ہوں گے کیونکہ اگر ہوتے تو کیا تبلیغ احمدیت نہ کرتے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تبلیغ نہ پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں۔چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی اور رسول کی پہچان اسے نصیب نہیں