خطبات محمود (جلد 4) — Page 333
خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۳ سال ۱۹۱۵ء ہوتا ہے وہ حدیث کے بیان کرنے والے کی وجہ سے ہوتا ہے ورنہ تعامل اور قرآن میں کہیں اختلاف نہیں ہوتا۔اب یہ ثابت ہوا کہ کوئی حدیث تعامل کے مطابق ہوتی ہے اور کوئی تعامل کے خلاف۔اسی طرح کوئی حدیث قرآن کے مطابق ہوتی ہے اور کوئی خلاف۔اس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اصل قرار دیا ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی حدیث قرآن اور تعامل کے خلاف ہو تو وہ رد کر دینے کے قابل ہے اور اگر موافق ہو تو مان لینی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود کے اس اصل کے مقرر کرنے سے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ آپ نے حدیثوں کو رد کر دیا ہے اس لئے انہوں نے امام بخاری اور امام مسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا جس کی آپ کو تردید کرنی پڑی۔اور آپ نے بتایا کہ ہم نے حدیثوں کو ہر گز رو نہیں کیا بلکہ درجے قائم کئے ہیں۔جب وہ درجے آپس میں ٹکرا جائیں تو نچلے درجہ کی باتوں کو چھوڑ دینا چاہیئے اور یہی حق اور درست بات بھی ہے مثلاً خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں، آنحضرت صلی اسلام کے صاف اور صریح حکم کے مقابلہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں کے حکم کے مقابلہ میں اگر ماں باپ کا حکم آجائے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ قبول نہیں کرنا چاہیئے اور ماں باپ کا حکم نہیں مانا چاہئیے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس طرح ماں باپ کے تمام احکام رڈی اور نا قابل عمل ہو گئے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وقصٰی رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أو كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيما۔اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں باپ کو اُف بھی نہ کہنا چاہئیے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ میں کفار سے جب لڑائی ہوتی ہے تو بیٹا باپ کو بے دریغ قتل کر سکتا ہے۔توریت میں آتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے طور پر جانے کے بعد جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو ان کیلئے حکم ہوا کہ ہر قریبی رشتہ دار اپنے قریبی رشتہ دار کو مارے۔یعنی باپ بیٹے کو، بیٹا باپ کو ، بھائی بھائی کو۔اب اس جگہ یہی حکم درست اور صحیح تھا جو اس کے خلاف کرتا وہ گناہ گار ہوتا۔پس مقابلہ اور چیز ہے اور صداقت اور چیز۔ایک حکم اور ایک صداقت اپنے اپنے رنگ اور حدود کے اندر اہمیت رکھتی ہے لیکن جب وہ اپنے سے بڑے حکم اور اعلیٰ صداقت کے مقابلہ پر آ جائے تو کچھ بھی نہیں رہتی۔مثلاً ایک تحصیلدار اپنی تحصیل میں کچھ اختیارات رکھتا ہے اور ان کے مطابق وہ جو حکم اپنے ماتحتوں کو دیتا ہے وہ ان کیلئے بجا لانا ضروری ہوتا ہے۔لیکن جب