خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 314

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۴ سال ۱۹۱۵ء تو دوں کو بھی بہا لے جاتا ہے اور یہ پتہ نہیں لگتا کہ اس جگہ کبھی خشکی تھی۔اسی طرح قرآن شریف کو لے کر جب صحابہ اُٹھے تو تمام دنیا میں اس کو پھیلا دیا۔جانتے ہو وہ کیا چیز تھی جو ان کے اندر پیدا ہوگئی اور جس کی وجہ سے انہیں کوئی دنیا کی چیز بڑھنے سے نہ روک سکی۔نہ انہیں دنیا کی لالچیں اور حرصیں روک سکیں ، نہ جان اور مال کا خوف باز رکھ سکا۔نہ مذاہب کے پھیلانے والے اور منادان کیلئے روک کا باعث ہو سکے اور نہ تلوار چلانے والے سپاہی ان کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک سکے وہ ہر ایک روک ، ہر ایک آڑا اور ہر ایک مشکل کو پاؤں میں روندتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔دیکھو! ایک انسان کا اگر ایک سے مقابلہ ہوتا ہے اور اس کو اپنے مقابلہ میں اگر ایک دشمن دکھائی دیتا ہے تو اس کیلئے مشکل ہو جاتا ہے لیکن صحابہ کا تو ایک نہیں دو نہیں بلکہ ساری دنیا ہی دشمن تھی۔پھر ان کے پاس نہ مال و دولت تھی، نہ حکومت و شوکت تھی ، نہ رعب و دبدبہ تھا، نہ سامان جنگ و آلات حرب تھے جن سے دشمن کا مقابلہ کر کے اس پر غالب آیا جاتا ہے۔سامان جنگ کے ذریعہ دشمن خواہ کتنا ہی قوی اور طاقتور ہو تو بھی مغلوب ہوسکتا ہے کیونکہ جو نہتہ ہو اس کو ایک ایسا شخص جو اٹھ کر بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا لیٹے لیٹے ہی بندوق سے مارسکتا ہے تو ایک سامان ہوتا ہے جو کمزوروں اور قلیل لوگوں کو فتح دلانے کا باعث ہوتا ہے مگر صحابہ کے پاس یہ بھی نہ تھا۔بعض اوقات جب صحابہ جنگ کیلئے نکلے ہیں تو بعض کے ہاتھوں میں صرف لٹھ ہی ہوتا تھا اور پیٹ میں بھوک کی وجہ سے بل پڑتے جاتے تھے۔یہ تو ان کے سامان کا حال تھا۔آج کل بھی دیکھ لولڑائی کا دارو مدار سامان جنگ پر ہی خیال کیا جاتا ہے۔پس ایک چیز جو دنیا میں اپنے دشمنوں پر فتح پانے کے لئے بڑی ضروری ہوتی ہے وہ سامان حرب ہوتا ہے۔صحابہ کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔قلعوں کو فتح کرنے کے لئے جاتے لیکن قلعوں کو توڑنے کے ہتھیار ان کے پاس نہ ہوتے تھے تاہم دنیا کا کوئی مضبوط سے مضبوط قلعہ ایسا نہیں ہوا جس پر انہوں نے حملہ کیا ہو اور پھر وہ نہ ٹوٹا ہو۔تو دنیاوی لحاظ سے دشمنوں پر فتح دلانے کیلئے ہتھیار ہوتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں تھے اور جو کچھ تھے وہ بھی اس زمانہ کے اعلیٰ درجہ کے ہتھیاروں میں شمار نہیں کئے جاتے تھے۔تلوار اور تیر ہی لڑائی کے ہتھیار ان کے پاس تھے لیکن جس اعلیٰ درجہ کے یہ ہتھیار رومیوں اور ایرانیوں کے پاس تھے وہ صحابہ کے پاس نہیں تھے۔پھر دشمن پر غالب آنے کیلئے مال ودولت ہوتی ہے۔ایک پلہ کمزور ہوتا ہے مگر