خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 281

خطبات محمود جلد ۴ ۲۸۱ سال ۱۹۱۵ء بیماری میں گھس گئے، پھر اس کے پنجہ سے نہ نکل سکے کیونکہ ایسا انسان جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے اس لئے پیش کرتا ہے کہ کچھ کرنا ہے کر لے، تو اس کو خدا ضرور سزا دیتا ہے۔مومن کی یہ شان نہیں ہے وہ تو خدا تعالیٰ سے ہر وقت ڈرتا رہتا ہے اور جہاں خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے وہاں سے الگ اور علیحدہ رہتا ہے لیکن جب وہ امتحان میں مبتلاء کیا جاتا ہے تو پھر اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس میں پاس ہونے کی کوشش کرے اور سمجھ لے کہ خدا نے میرا امتحان لینا چاہا ہے اس لئے میں پاس ہو جاؤں اور وہ ہے ثابت کر دیتا ہے کہ خدا پر میرا پورا ایمان ہے۔اگر ایسے وقت میں کوئی بچنا چاہتا ہوتو بھی خدا اس کو پکڑتا ہے کہ ہم امتحان لینا چاہتے ہیں تو یہ کیوں نہیں دیتا۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ جس طرح باپ بھائی اور بیٹا تکلیف کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کریں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کیونکہ احمدیوں کا ایک دوسرے سے تمام رشتہ داروں سے بڑھ کر تعلق ہے اس لئے چاہیئے کہ تمام احمدی جہاں کہیں بھی ہوں صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ تمام احمدیوں کیلئے دعا کریں اور اگر ان کے گاؤں میں بیماری نہیں تو اور ایسے گاؤں بھی تو ہیں جہاں آدمی ہیں اور وہاں بھی بیماری کی آگ لگی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس نکتہ کے سمجھنے کی توفیق دے کہ تم ایک طرف تعلق باللہ کو مضبوط کرو تو دوسری طرف شفقت علی خلق اللہ کو مدنظر رکھو اور یہ بھی سمجھ لو کہ تو گل کیا ہوتا ہے اور اسباب سے کام لینا کیا ہوتا ہے۔بہت سے انسان غلطی سے کبھی تو گل کا نام اسباب اور اسباب کا نام توکل رکھ لیتے ہیں اور پھر ٹھوکر کھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ ہی ہماری جماعت کا محافظ ہو اور آپ ہی اس کا حامی و ناصر ہو۔ہمارا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون ہے؟ (الفضل ۱۱۔مارچ ۱۹۱۵ء)