خطبات محمود (جلد 4) — Page 19
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹ سال ۱۹۱۴ء کوئی اگر تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری اس کے سامنے کر دو اور اگر کوئی تم سے ایک کپڑا مانگے تو دوسرا بھی اتار کر دے دو۔اور اگر کوئی تمہاری ایک چیز اٹھا کر لے لے تو دوسری چیز تم خود اس کے آگے حاضر کر دو ۳ لیکن اگر اس پر عمل کیا جاوے تو دنیا ایک دن میں تباہ ہوسکتی ہے۔اس کے پیش کرنے والے خود پر عمل نہیں کرتے بلکہ جس کی طرف یہ تعلیم منسوب کی جاتی ہے خود اس نے اس پر عمل کر کے نہیں دکھلایا۔پادریوں کے ساتھ اگر ایسا کیا جاوے تو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ایک جگہ ایک پادری انہی آیات پر وعظ کر رہا تھا تو اس نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیم بہت سخت ہے ہماری تعلیم دیکھو کیسی نرم ہے۔مسلمانوں کی تعلیم میں رحم بالکل نہیں ہے ایک آدمی نے حاضرین میں سے اٹھ کر پادری صاحب کے ایک تھپڑ رسید کیا تو وہ بڑے برافروختہ ہوئے اور اسے مارنے لگے تو لوگوں نے کہا۔کہ پادری صاحب ! یہ کیا بات ہے۔ابھی تو آپ اپنی تعلیم کی تعریف کر رہے تھے اور ابھی عمل کا وقت آیا تو یہ حال ہے تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ اس وقت تو مجھے تمہاری تعلیم پر عمل کرنا پڑے گا۔عملاً تو اسلام کی تعلیم ہی باقی رہ جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ خدا محبت ہے بیشک وہ رحیم کریم ہے لیکن وہ اس کے ساتھ ہی شدید الْعِقَابِ بھی تو ہے اگر بہشت موجود ہے تو دوزخ بھی اس کے ساتھ ہی موجود ہے۔اگر کوئی زانی ہے تو اسے آتشک بھی ہو ہی جاتی ہے۔بد پرہیزی کرنے والا بیمار بھی ہو جاتا ہے۔شریر کو سزا ملتی ہے۔یہ خدا کا عمل ہے۔ہر ایک گناہ پر سزا ہی نہیں ملا کرتی عفو بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے وہ تعلیم دی ہے کہ جس پر عمل ہو سکے۔مناسب محل کام کرنے کی تعلیم دی ہے۔نبی کریم صلی ایم کے مقابلہ میں اور کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں مل سکتا کیونکہ آپ کی تعلیم وہی تھی جس پر انسان عمل کر سکتا ہے تو ایسی تعلیم جس پر عمل کرنے سے کوئی تباہی نہ ہو اور اس میں نقص بھی کوئی نہ ہو بلکہ اسپر عمل کرنے سے فائدہ ہی فائدہ ہو تو اگر اس پر کوئی عمل نہ کرے تو اس پر کیسا افسوس ہے۔مسلمان اول تو قرآن کو پڑھتے ہی نہیں اگر پڑھیں تو تدبر نہیں کرتے پھر عمل بھی نہیں کرتے۔انہیں کوئی دنیاوی بیماری اگر لگ جاوے تو اس کیلئے طبیب تلاش کرتے ہیں اور عمدہ سے عمدہ اور فائدہ مند نسخے تلاش کرواتے ہیں اور وہ جان کو باقی رکھنا چاہتے ہیں۔جان کے دو حصے ہیں