خطبات محمود (جلد 4) — Page 250
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۰ (۵۳) جلسہ سالانہ کے انتظام میں ہمیں حج کے قواعد وضوابط سے فائدہ اٹھانا چاہئیے (فرموده ۲۵۔دسمبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔الْحَجُّ اشْهُرٌ مَّعْلُومَتْ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَتَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الحَج وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُوْنِ يَأُولى الْأَلْبَابِ پھر فرمایا:۔پیشتر اس کے کہ میں اس آیت کے متعلق جو میں نے ابھی پڑھی ہے آپ لوگوں کے سامنے کچھ بیان کروں ایک بات بیان کرناضروری سمجھتا ہوں۔تھوڑے دن ہی ہوئے ہیں کہ لاہور سے ایک شخص آیا اور اس نے مجھ سے ایک ات کا ذکر کیا جس سے مجھے بہت تکلیف ہوئی۔میں عام طور پر لوگوں کی باتوں پر دھیان کرنے کا عادی نہیں ہوں اور لوگ بہت سی اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں مجھے ان کا کبھی ذرا بھی خیال نہیں آیا لیکن اس بات کا مجھ پر اثر ہوا اس لئے نہیں کہ وہ میری اپنی ذات کے متعلق تھی بلکہ اس لئے کہ جماعت کو اس ابتلاء سے بچانا چاہیئے تا ایسا نہ ہو کہ یہ ابتلاء بڑھتا بڑھتا بہت پھیل جائے۔اس شخص نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک بڑے شخص نے تمسخر سے پوچھا کہ