خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 228

خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۸ سال ۱۹۱۴ء اس کو سرسبز کر کے دکھا دیا۔تو دنیا عذر کرسکتی ہے تو کرے مگر تم خوب یا درکھو کہ تم کوئی عذر نہیں کر سکتے تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے کسی پر خدا کا عذاب نازل ہوتا نہیں دیکھا۔اور تم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نافرمان قوموں کا کیا حال ہوتا ہے اور ان کو کیا سزا ملتی ہے اور تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں کھیتیوں کے نظاروں سے نصیحت حاصل کرنا نہیں آتا کیونکہ تم نے ان نظاروں کو اپنی آنکھوں۔دیکھ لیا ہے۔پس تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔تم اگر اپنی اصلاح نہ کرو گے تو سب سے بڑے مجرم ہو گے۔اس لئے تم اپنے اندر تغیر پیدا کر لو، تبدیلی پیدا کر لو تمہارے لئے ہر ایک حجت پوری ہو چکی ہے۔تم نصیحت حاصل کرو اور خدا کے فضل اور انعاموں سے استغناء مت کرو۔خدا تعالیٰ بڑی طاقت رکھنے والا ہے لیکن اس کے فضل سے نا امید بھی نہ ہونا۔دیکھ خدا تعالیٰ کا فضل جب آتا ہے تو مٹی کو جس پر انسان بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا سرسبز کر دیتا ہے۔اور پھر لوگ اسی کے سیر کیلئے جاتے ہیں۔تو گو اللہ تعالیٰ کے عذاب بڑے سخت ہوتے ہیں مگر فضل بھی بڑے بڑے کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا قہر بڑا ہے تو رحم بھی بڑا ہے۔سو تم خدا تعالیٰ کے قہر سے ڈر کر اس کے رحم کے طالب ہو جاؤ۔اور غضب سے ڈر کر فضل کے جاذب بن جاؤ ، خدا تعالیٰ بڑا رحیم و کریم ہے ہم نے کب اس کے حضور عرض کیا تھا کہ ہم میں مسیح موعود بھیجو اس نے خود ہی اپنے فضل سے ہم پر یہ احسان کیا۔پس اس وقت اپنے دلوں کے دروازے کھول دو اور فائدہ اٹھا لو۔اپنے کھیتوں کے گرد آڑیں بنا لوتاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی بارش کا پانی اس میں پڑے اور پڑ کر نکل نہ جائے۔اب اس شان کا احسان جیسا کہ تم نے دیکھا ہے دنیا میں نہیں آئے گا۔بہت لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے کہ اگر ہم آنحضرت کے زمانہ میں ہوتے تو ایسا کرتے۔ان لوگوں کی اصلیت ظاہر کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے اپنے ایک برگزیدہ کو بھیج دیا کہ اب ہی کچھ کر کے دکھا دو لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ معلوم ہی ہے۔تو پھر کبھی یہ دن نہیں آئیں گے۔تم ان سے فائدہ اٹھالو۔خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے۔(الفضل ۲۶۔نومبر ۱۹۱۴ء) السجده: ۲۷، ۲۸ ۲ ال عمران: ۳۹،۳۸ ۳ القصص : ۵۸ عبس: ۲۵ تا ۳۳