خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 220

خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۰ سال ۱۹۱۴ء مختلف ابتلاؤں کا مجھے پتہ بتلایا گیا ہے۔ان سب کا علاج صرف یہی ہے کہ استغفار کیا جائے اور اپنی اصلاح کی جائے۔اللہ تعالیٰ کا عذاب بندوں کی طرح نہیں ہوتا کہ بس پیس کر ہی رکھ دیتا ہے بلکہ اگر انسان اصلاح کرے تو عذاب دور بھی ہو جاتا ہے۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو ، استغفار میں لگ جاؤ اور دعاؤں میں مشغول ہو جاؤ۔ابتلاؤں کے دور کرنے کے ذریعے قرآن شریف نے جو بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں۔نماز ، روزہ اور صدقہ۔اور یہ بڑا مجرب نسخہ قرآن شریف جیسی اعلیٰ نسخوں والی کتاب کا ہے۔اس کے علاوہ استغفار کے بڑے مدارج ہیں۔لیکن استغفار منہ سے ہی نہیں ہونا چاہئیے۔بلکہ عمل سے بھی اس کا ثبوت ہونا چاہیئے۔پس تم نماز ، روزہ ،صدقہ اور تو بہ میں لگ جاؤ اور پیشتر اس کے کہ خدا تعالیٰ کے عذاب آئیں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرلو۔ان علاجوں میں سے جس جس کی کسی کو توفیق ہے وہ اس پر عمل کرے۔یاد رکھو کہ اگر تم تبدیلی پیدا کر لو گے تو خدا تعالیٰ تم کو ہر ایک قسم کے ابتلاؤں سے بچالے گا۔اور اگر تم کو تا ہی کرو گے تو میں تو بڑے بڑے طوفان دیکھ رہا ہوں۔تمہاری جماعت پہلے ہی کمزور ہے اگر اس پر کچھ اور بوجھ پڑ گیا تو تم جانتے ہی ہو کہ کیا حالت ہوگی۔پس جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں وہ سن لیں اور جو نہیں بیٹھے ان کو سنا دو۔اب وقت ہے کہ کچھ کر لو۔یہ خدا تعالیٰ کا تم پر بڑا فضل ہے کہ اس نے تم کو پہلے بتا دیا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی قدرت اور عذاب کے نظارے دنیا میں دکھانا چاہتا ہے۔اور جو لوگ ان لوگوں کی مشابہت اختیار کریں گے جن کیلئے عذاب نازل ہونے والا ہے ان پر عذاب آئے گا اس لئے تم آج ہی سے تبدیلی پیدا کرنی شروع کر دو۔اور جس کو خدا نے توفیق دی ہے صدقہ دے اور جس کو طاقت دی ہے روزے رکھے۔اس وقت کے سوا اور کون سات وقت آئے گا جب کہ تم اصلاح کرو گے۔عذاب آجانے کے بعد پھر کوئی موقع اصلاح کا نہیں ہوتا۔اگر کوئی چور چوری کی نیت کر کے گھر سے نکلے اور وہ راستہ ہی سے پلٹ آئے تو وہ بیچ سکتا ہے لیکن اگر کوئی چورسیندھ لگا تا ہوا پکڑا جائے اور وہ اس وقت کہے کہ اب میں تو بہ کرتا ہوں تو کبھی نہیں بچ سکتا۔پس اس کے وقت کو غنیمت جانو اور جس قدر بھی اپنی حالتوں میں تغیر پیدا کر سکتے ہو کر لو۔جس وقت بڑے عذا آتے ہیں اس وقت خدا تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔اس لئے اگر کوئی انسان اس کے حضور گر جائے تو وہ عذاب اس کیلئے فضلوں کا باعث ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ہم کو ابتلاؤں سے بچائے اور بجائے تنزل کے ترقی عطا فرمائے۔اور ہماری کمزوریاں دور کر کے ہمیں نیک اعمال کی