خطبات محمود (جلد 4) — Page 208
خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۸ سال ۱۹۱۴ء دیکھو اور غور کرو کہ اگر کوئی انسان اپنی آنکھوں کو عمدگی اور احتیاط سے ان قواعد کے ماتحت استعمال کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کے متعلق فرمائے ہیں تو اس کی آنکھیں کبھی اندھی نہیں ہوتیں مگر اس آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں جو کہ خدا کے بتائے ہوئے قوانین سے ایک طرف چلا جاتا ہے۔غرضیکہ خدا کبھی کسی سے انعامات نہیں چھینتا لیکن انسان آپ ہی اپنے آپ کو ایسا بنا دیتا ہے کہ انعاموں کے قابل نہیں رہتا۔آج کل بھی مسلمانوں کے لئے بڑی تباہی اور ہلاکت کے دن آئے ہوئے ہے معلوم ہوتے ہیں۔مگر تم خوب یاد رکھو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہے اور نہ ہی خدا کبھی کسی پر ظلم کرتا ہے۔آنَّ اللهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِت ایسے موقع پر ہزاروں انسان گھبرا گئے ہوں گے اور بہت سارے لوگ تو خدا تعالیٰ کی ہستی اور دین اسلام کی سچائی پر ہی شبہ کرنے لگ جائیں گے کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ جس دین پر چل کر ہم کو اس قدر مصائب برداشت کرنے پڑے ہیں وہ سچا نہیں ہو سکتا۔مگر تم یہ شبہات جن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوں گے ان کی حالت کو دیکھو اور ان کے نفسوں کا ہے مطالعہ کرو۔آج عام مسلمانوں کی حالت ان کے علماء کی حالت ان کے امراء کی حالت ان کے صوفیاء کی حالت ان کے حکمرانوں کی حالت ان کے بادشاہوں کی حالت کو دیکھو کہ وہ کیسے ہیں۔کیا وہ اس قابل ہیں کہ ان کیلئے خدا تعالیٰ کے انعامات قائم رہیں ان کی حالتیں دیکھ کر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خدا نے جو تباہی ان پر نازل کی ہے یہ اس کے پورے مستحق تھے۔خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا وہ مسلمان جو تخت حکومت پر متمکن ہیں اور وہ جو بادشاہت کے دعویدار ہیں اور وہ جو کسی ملک کی حکومت کی باگ اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں اول درجہ کے بدکار، دین سے غافل نماز سے غافل، روزے کے تارک اور حج کے تارک ہیں۔پھر اخلاق اور عادت میں نہایت گندے اور خطر ناک قسم کی بدکاریوں میں گرفتار پائے جاتے ہیں۔پس ان کے ایسے اعمال کے بعد اللہ تعالیٰ کو ان کی کیا پرواہ ہے کہ وہ ان کو بادشاہت پر قائم رکھے۔اور اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ اپنی پیاری مخلوق کی باگ ایسے ظالموں کے ہاتھوں میں دے دے اور اپنے بندوں پر ان خونخوار انسانوں کو حکومت کرنے کی اجازت دے جبکہ کوئی عقل مند انسان کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا بیٹا ظالم اور نا ترس استاد کے قبضہ میں ہو جو کہ مار مار کر اس کا چمڑا بھی اُتار دے۔تو پھر خدا تعالیٰ کس طرح یہ پسند کرتا ہے کہ اپنی