خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 192

خطبات محمود جلد ۴ دو تو حیات مسیح ثابت ہو جائے۔۱۹۲ سال ۱۹۱۴ء چند دن ہوئے۔ایک واعظ نے لکھا تھا کہ ایک مولوی صاحب جو کہ حافظ قرآن بھی تھے مجھے یہ کہا کہ قرآن کریم میں ہے اِتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا - یعنی ابراہیم علیہ السلام اور امام حنیفہ کے دین کی پیروی کرو۔تو ہم امام حنیفہ کے مذہب پر ہیں یہ آیت اس نے اپنی طرف سے بنا کر کہہ دیا حالانکہ قرآن کریم میں ہرگز یہ آیت نہیں بلکہ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ہے یعنی ابراہیم کے دین کی جو حنیف تھا پیروی کرو۔تعجب ہے کہ امام حنیفہ جو دو سو سال بعد آنحضرت مالی یہ تم سے پیدا ہوئے ان کی پیروی کرنے کا حکم قرآن میں درج بتاتے ہیں۔تو یہ کس قدر جرات اور بے باکی ہے کہ ایک فقرہ اپنے مطلب کا بنا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو خود لکھ کر اس کو خدا کی طرف منسوب کرتی ہے۔اس لئے کہ آمدنی ہو اور عزت بڑھے۔مگر ایسے لوگ کبھی سکھ میں نہیں ہوتے۔ان کا کھانا پینا ذلت اور خواری کا ہوتا ہے اور وہ دنیا میں ہی ذلیل ہو جاتے ہیں تم دیکھ لو ایک زمانہ تھا علماء کی قدر کی جاتی تھی کہ بادشاہ کی ان کے سامنے مجال نہ ہوتی تھی کہ کچھ کر سکے۔اب تو ترکوں کو یورپ والے بد نام کر رہے ہیں کہ بڑے ظالم اور بے رحم ہیں لیکن ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ترک بادشاہ کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اس نے کہا کہ میں قتل عام کروں گا۔مگر جب شیخ الاسلام نے کہا کہ یہ نا جائز ہے میں اس کی اجازت نہیں دوں گا تو بادشاہ نے شیخ الاسلام کے حکم کے آگے گردن جھکا دی اور کچھ نہ بولا۔تو اس وقت جبکہ علماء میں انتقاء اور پر ہیز گاری ہوتی تھی تو ان کی قدر بھی کی جاتی تھی لیکن اب تو دو دو پیسے کو دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی قدر نہیں کرتا اسے کی بھی قدر نہیں کی جاتی۔اس لئے جب سے مسلمانوں نے قرآن شریف کے معنی بدلنے اور اس میں جھوٹے قصے کہانیاں ملانی شروع کی ہیں۔اسی وقت سے ذلیل ہو رہے ہیں۔تعجب آتا ہے کہ لوگوں میں اس حد تک کس طرح جرات پیدا ہو گئی ہے کہ جھوٹی آیتیں بنا کر شرارت سے لوگوں میں مشتہر کرتے ہیں۔پنجاب کی ایک مشہور انجمن کے جلسہ میں ایک دفعہ ایک لیکچرار صاحب بار بار ایک عربی عبارت کو دہراتے اور کہتے تھے کہ یہ قرآن کی آیت ہے حالانکہ وہ ہرگز قرآن کی آیت نہیں تھی۔لیکن اس لیکچرار کو مولویوں سے سُن سُن کر اس قدر اس کے آیت قرآنی ہونے پر پختہ