خطبات محمود (جلد 4) — Page 184
خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۴ (۴۱) ہ شخص قرآن کریم سیکھنے کی کوشش کرے (فرموده ۲۔اکتوبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔وَمِنْهُمْ أُمِّتُونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَبَ إِلَّا أَمَا نِي وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ پھر فرمایا:۔بہت لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میں خدا تعالیٰ کے کلام کی حقیقت سمجھنے کی خواہش بھی پیدا نہیں ہوتی۔اگر کسی دوست کسی رشتہ دار یا کسی عزیز کا خط آ جائے تو لوگ بڑی توجہ اور خوشی سے اس کو پڑھتے ہیں اور اگر خود پڑھنا نہ آتا ہو تو اس کے پڑھوانے کیلئے بھاگے بھاگے پھرتے ہیں اور کئی کئی میل پر بھی جاتے ہیں۔اور پڑھوا کر سنتے ہیں۔آن پڑھوں کو تو دیکھا ہے کہ ایک دفعہ کے سننے سے ان کی تسلی نہیں ہوتی بلکہ کئی کئی آدمیوں سے پڑھواتے اور سنتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام آیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب آئی احکم الحاکمین کے طرف سے ایک خط آیا۔مگر اس کے پڑھنے اور پڑھوا کر سننے کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔باپ، بھائی ، عزیز ، دوست ، خاوند ، بیوی کا خط ہو تو لوگ فوڑا پڑھتے ہیں یا اگر نہیں پڑھ سکتے تو کسی سے پڑھواتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے پاس پڑا رہتا ہے اس کو دیکھتے بھی نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اُسے جھوٹا سمجھتے ہیں یا بناوٹ اور فریب خیال کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات کا پختہ یقین رکھ کر کہ یہ خدا کا کلام ہے۔پھر