خطبات محمود (جلد 4) — Page 182
خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۲ سال ۱۹۱۴ء کی طرح تمام کپڑے اتار کر صرف لنگوٹی باندھی ہوئی تھی۔میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ یہ منافق ہے جو کہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے لیکن نہیں پہنچا سکے گا۔تو منافق خفیہ خفیہ اپنی کارروائی میں لگے رہتے ہیں اور وہ خود بھی بڑی مشکلات میں ہوتے ہیں کیونکہ انہیں دونوں طرفوں کو خوش رکھنا پڑتا ہے اس لئے وہ ایک طرف کی باتیں دوسری طرف اور ان کی باتیں دوسروں کی طرف پہنچاتے رہتے ہیں اور اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہی بات نہ کھل جائے اس لئے وہ بیچ بیچ کر پوشیدہ طور پر باتیں کرتے ہیں اور نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔لیکن جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت ہورہا ہو تو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔منافق انسان کی حالت دین اور دنیا دونوں میں خراب اور ابتر ہی رہتی ہے کیونکہ کوئی ان کا اعتبار نہیں کرتا۔بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی بادشاہ نے رشوت کا لالچ دے کر کسی کو قتل کروادیا۔لیکن جب وہ انعام لینے آیا تو اس کو یہی انعام ملا کر قتل کر دیا گیا۔تو واقعہ میں دانا انسان منافق کا کبھی اعتبار نہیں کرتا اور منافق کبھی سکھ نہیں پاسکتا۔میں ایسے انسان کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ہمارا کچھ نقصان نہیں کر سکے گا اور اس کے پاس صرف لنگوٹی ہی رہ جائے گی۔وہ سمجھ جائے اور منافقت سے باز آجائے۔ورنہ اللہ تعالیٰ ہر ایک پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے۔وہ یہ نہ سمجھے کہ میں اپنے نفاق پوشیدہ رکھ سکوں گا خدا تعالیٰ ضرور اسکی باتوں کو ایک دن ظاہر کر دیگا اور پھر اسے منہ دکھانا بھی مشکل ہو جائے گا۔مجھے ایک واقعہ یاد کر کے مزا آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس طرح پوشیدہ باتوں کو ظاہر کرتا ہے۔میں نے اخبار میں پڑھا کہ کچھ بنگالی طالب علم فرانس کے کسی شہر کے ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے اور ایک کمشنر کی نقلیں اتار رہے تھے کہ وہ یوں یوں کیا کرتا تھا۔جب وہ باتیں ختم کر چکے تو ایک آدمی جو کہ ان کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔اُٹھ کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں کہ ایسی حرکات مجھ سے ہی سرزد ہوتی رہی ہیں۔اس شخص کے اچانک بول اٹھنے سے وہ سخت شرمندہ ہوئے اور معافی مانگی تو خدا تعالیٰ بڑے بڑے بھید ظاہر کر دیتا ہے۔آنحضرت صلی ا لی ایم کے زمانہ میں ایک صحابی نے اپنے رشتہ داروں کو مکہ پر مسلمانوں کے حملہ کرنے کی خبر پوشیدہ طور پر پہنچانی چاہی تاکہ اس ہمدردی کے اظہار کی وجہ سے وہ اس کے رشتہ داروں سے نیک سلوک کریں۔لیکن آنحضرت صالنا ہی تم کو الہام کے ذریعہ یہ بات بتا دی گئی۔آپ نے حضرت علی اور چند ایک اور صحابہ کو بھیجا کہ فلاں جگہ ایک عورت ہے اس سے جا کر کاغذ