خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 174

خطبات محمود جلد ۴ ۱۷۴ سال ۱۹۱۴ء دیکھ کر ڈر جانے کی وجہ سے ہلاکت سے بچالیا تو اس نے خیال کیا کہ میرے متعلق جو پیشگوئی تھی وہ جھوٹی ہی تھی۔اس نے اپنے ڈر جانے والی حق بات کو چھپا لیا اور اسے ظاہر نہ کیا اس لئے پھر تباہ ہو گیا۔تو خدا تعالیٰ نے ہم کو ہر طرح کے نظارے دکھا دیئے کہ بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جو آگے بڑھ سکتے ہیں لیکن بعض میں آگے بڑھنے کی طاقت نہیں ہوتی۔بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جو گناہ کر کے اس پر فخر کرتے ہیں وہ شرارت سے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور بعض ایک گناہ مجبوری سے کرتے ہیں مثلاً ان پر حرص غالب آجاتی ہے طمع اندھا کر دیتا ہے، جوش محبت ، دشمنی وغیرہ جذبات مجبور کر دیتے ہیں مگر ایک گناہ ایسا ہوتا ہے جو کہ انتہائی درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔وہ فوری جوش سے نہیں ہوتا بلکہ نا پاک طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ایسے انسان بے حیا ہو جاتے ہیں اور گرتے گرتے ایسے گر جاتے ہیں کہ پھر کبھی اٹھ نہیں سکتے اور ان کو ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کہ کیا ایسے آدمیوں سے تم ایمان لانے کی طمع رکھتے ہو؟ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی نسبت ایمان لانے کی طمع رکھنی ٹھیک ہے کیونکہ یہ نہیں فرمایا کہ کیوں طمع رکھتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک خاص گروہ کا ذکر فرمایا ہے کہ کیا تم ان کے ایمان کی طمع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان کر نیکی کریں گے نہیں وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ایک کمزور ایمان انسان ممکن ہے کبھی اپنی کمزوری سے مجبور ہو کر انسان کے کلام میں تحریف کر دے مگر ایک انسان جو ایک کلام کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتا ہو اور اسے اس بات کا یقین بھی ہو اور پھر اس میں تحریف کرے تو وہ بہت بڑے جرم کا مرتکب ہو جاتا ہے۔یہاں خدا تعالیٰ نے يَسْمَعُونَ الْقُرْآن نہیں فرمایا بلکہ کلام اللہ فرمایا۔اس لئے اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن شریف کو کلام اللہ سمجھتے ہیں ورنہ ایسے لوگ تو بہت ہیں جو قرآن شریف کو کلام اللہ نہیں سمجھتے۔پھر ایسے لوگ کیا کرتے ہیں۔اس میں تحریف کر دیتے ہیں۔تحریف تو غلطی سے بھی ہو جاتی ہے مثلاً کسی نے غلط تفسیر کر دی۔لیکن یہ ایسا نہیں کرتے بلکہ یہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس کلام کا یہ مطلب نہیں۔مگر پھر وہ کہتے ہے ہیں کہ یہی ہے۔پھر بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ مطلب ہے مگر اس سے بے جانے بوجھے تحریف ہو جاتی ہے مثلاً جلدی سے کوئی کلمہ نکل جاتا ہے حالانکہ انسان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔جس طرح حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے کہا اے خدا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا خدا ہوں گے وہ اصل بات جانتا تھا مگر اس